بلوچوں کی جبری گمشدگیوں اوراسیر رہنمائوں کی رہائی کیلئے اسلام آباد اور کراچی میں دھرنے جاری

پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد اور کراچی میں بلوچوں کی جبری لاپتہ افراد کی بازیابی اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے قائدین کی رہا ئی کیلئے احتجاجی دھرنے گذشتہ ایک مہینے سے زائد جاری ہیں۔

اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ کرنے والے بلوچ خاندانوں نے کہا ہے کہ ہمارے پیاروں کی جبری گمشدگی اور بی وائی سی رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف ہمارا پُرامن دھرنا آج 49 ویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔ ہم مائیں، بیٹیاں، بزرگ اور بچے سخت بارش، جھلستی دھوپ اور موسم کی شدت سہہ رہے ہیں، لیکن ہمارے مطالبات پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔

مظاہرین نے کہا کہ ہم صرف انصاف چاہتے ہیں، ہمارے پیاروں کو بازیاب کیا جائے اور بی وائی سی رہنماؤں کو فوری و محفوظ رہا کیا جائے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے، مگر یوں جبری طور پر غائب کر دینا آئین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

شرکاء نے مزید کہا کہ حکومت کی بے حسی اور میڈیا کی خاموشی ہمارے حوصلے توڑنے میں ناکام رہی ہے۔ ہم اپنے پیاروں کی بازیابی تک احتجاج جاری رکھیں گے اور کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

اسی طرح کراچی پریس کلب کے باہر جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی کیمپ اپنے 29ویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔

سخت گرمی اور مسلسل مشکلات کے باوجود لاپتہ نوجوانوں کے اہلخانہ، جن میں خواتین، بزرگ اور بچے شامل ہیں، اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔

مظاہرین کے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز تھے جن پر انصاف، آئین کی بالادستی اور انسانی حقوق کی بحالی کے مطالبات درج تھے۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے نوجوانوں کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا جاتا وہ اپنی جدوجہد ترک نہیں کریں گے۔

اس موقع پر لاپتہ نوجوان زاہد بلوچ کے والد حمید بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماری پور میں گزشتہ دنوں ہم نے اپنا احتجاجی دھرنا صرف اس یقین دہانی پر ختم کیا تھا کہ لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے گا۔ اس حوالے سے ماری پور پولیس اسٹیشن میں اعلیٰ سرکاری حکام سے ملاقات بھی کرائی گئی، تاہم یقین دہانیوں کے باوجود کوئی نوجوان رہا نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ طرزِ عمل اہلخانہ کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

حمید بلوچ نے بتایا کہ ان کے بیٹے کو کسی عدالتی حکم یا قانونی کارروائی کے بغیر لاپتہ کیا گیا۔ "اگر اس پر کوئی الزام ہے تو شواہد کے ساتھ عدالت میں پیش کیا جائے، مگر یوں اچانک غائب کر دینا آئین اور انصاف دونوں کی خلاف ورزی ہے،” انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔

حمید بلوچ نے کہا کہ ان کا بیٹا زاہد بلوچ نے حال ہی میں کراچی یونیورسٹی کے انٹرنیشنل ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ سے گریجویشن مکمل کی تھی۔ روزگار کے محدود مواقع کے باوجود اُس نے حوصلہ نہیں ہارا اور گھر کے اخراجات میں ہاتھ بٹانے کے لیے رکشہ چلانا شروع کیا۔ وہ دن رات محنت کرتا تاکہ اپنی تعلیم کا ثمر اپنے گھر والوں کو دے سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ خود جگر کے عارضے میں مبتلا ہیں جبکہ مالی حالات بھی کمزور ہیں۔ ایسے حالات میں بیٹے کی گمشدگی نے پورے خاندان کو تباہ کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ کراچی کے مختلف علاقوں سے ایک درجن کے قریب بلوچ نوجوان جبری گمشدگی کا شکار ہیں۔ ان میں ماری پور اور لال بکھر ہاکس بے کے شیراز بلوچ، سیلان بلوچ، سرفراز بلوچ، رمیز بلوچ، رحیم بخش بلوچ اور رحمان بلوچ شامل ہیں۔ اسی طرح ملیر سے میر بالاچ بلوچ اور صادق مراد بلوچ بھی لاپتہ ہیں۔ اہلخانہ کے مطابق یہ نوجوان کئی ماہ سے غائب ہیں۔

Share this content: