عمران خان کو اقتدار میں لانا ایک منظم منصوبہ تھا جس کے نگران جنرل فیض حمید رہے، خواجہ آصف

پاکستان کے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو اقتدار میں لانا ایک منظم منصوبے کا حصہ تھا، جس کا آغاز ایک دہائی قبل ہوا اور جس پر عمل درآمد جنرل (ر) فیض حمید کی نگرانی میں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو سیاسی اور عدالتی کارروائیوں کے ذریعے اقتدار سے الگ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے دورِ حکومت میں پاکستان نے نمایاں ترقی کی، تاہم انھیں قانونی تقاضے پورے کیے بغیر سپریم کورٹ میں مقدمات کے ذریعے نااہل اور بعد ازاں قید کی سزا دی گئی۔

خواجہ آصف نے دعویٰ کیا 2018 کے عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے ذریعے عمران خان کو اقتدار میں لایا گیا، جبکہ اس عمل کی نگرانی اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ جنرل فیض حمید اس حکومت کے سب سے طاقتور کردار بن کر ابھرے اور عمران خان کے چار سالہ دور میں ہونے والی معاشی اور سیاسی تباہی کے دونوں ذمہ دار ہیں۔

وفاقی وزیر دفاع نے الزام لگایا کہ اس دور میں سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈالا گیا، دھمکیوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہا اور ریاستی اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو عملی طور پر ایک ماتحت ادارہ بنا دیا گیا اور اہم فیصلے منتخب اداروں کے بجائے پس پردہ کیے جاتے رہے۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ جنرل فیض حمید کے خلاف ٹاپ سٹی کیس سمیت دیگر سنگین الزامات موجود ہیں، جنھیں پاکستان کی تاریخ کے شرمناک ابواب قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق میاں نواز شریف، ان کے اہلِ خانہ، پارٹی قیادت اور کارکنوں کے خلاف کارروائیوں کے پیچھے ایک ہی سوچ کارفرما تھی جس کا فائدہ براہِ راست عمران خان کو پہنچا۔

نو مئی کے واقعات پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ان واقعات کی منصوبہ بندی بھی اسی منصوبے کا تسلسل تھی، جبکہ مختلف شہروں میں ہونے والے حملوں میں افرادی قوت پی ٹی آئی کے کارکنوں نے فراہم کی۔

وفاقی وزیر دفاع نے کہا کہ اگر عمران خان اور جنرل فیض حمید کا گٹھ جوڑ برقرار رہتا تو پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں سال مئی میں پاکستان نے ایک اہم مرحلہ عبور کیا اور عالمی سطح پر ملک کا وقار بلند ہوا۔

انھوں نے زور دیا کہ ملک دشمن عناصر کا احتساب ناگزیر ہے اور یہ عمل یہیں ختم نہیں ہوگا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ جو افراد اپنے ذاتی مفادات کے لیے ریاستی اداروں اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچاتے ہیں، انھیں قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

سرحدی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انھوں نے الزام لگایا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے انڈیا اور افغانستان میں موجود عناصر ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض سیاسی عناصر طالبان سے مذاکرات کی بات کرتے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز اور شہری دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔

خواجہ آصف نے پی ٹی آئی پر طالبان کی مالی معاونت کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کی ایک وجہ صوبائی حکومت کا وفاق کے ساتھ تعاون نہ کرنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، تاہم سول اور عسکری قیادت کے باہمی تعاون سے ملک کو دوبارہ مستحکم کیا جا رہا ہے۔

Share this content: