وادی تیراہ میں مقامی افراد ماہانہ ایک لاکھ روپے دیئے جانے کے شرط پر علاقہ چھوڑنے پر آمادہ

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے شورش زدہ علاقے وادی تیراہ کی عوام نے علاقہ چھوڑنے پر مشروط آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ تاہم اُنھوں نے علاقے میں امن و امان کی بحالی کے لیے 27 نکات پر مشتمل شرائط نامہ پیش کیا ہے۔

اس حوالے سے اتوار کو تیراہ میں آفریدی قبائل کا جرگہ منعقد ہوا جس میں ملک دین خیل، قمبر خیل، ملک دین خیل، اکاخیل اور دیگر قبائل کے 24 سرکردہ قبائلی عمائدئن نے شرکت کی۔

جرگہ کے رُکن ملک کمال الدین نے میڈیا کو بتایا کہ تقریباً تین چار سال سے ہمارے لوگ یرغمال بنے ہوئے ہیں علاقے میں سرگرم مختلف مسلح تنظیموں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران بے گناہ افراد بھی مارے جا رہے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم متعدد بار یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ ہمارے علاقوں میں پرتشدد کارروائیاں اور سرگرمیاں نہ کریں، مگر ہماری کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

ملک کمال الدین کہتے ہیں کہ گذشتہ ماہ وزیر اعلیٰ کے سامنے بھی ہم نے بات رکھی تھی کہ کم از کم غیر اعلانیہ کرفیو اور گولہ باری کو رکوائیں،لیکن کچھ نہیں ہوا۔

اُن کا کہنا تھا کہ گذشتہ چھ ماہ سے سکیورٹی ادارے بھی ہمیں بار بار کہہ رہے ہیں کہ علاقہ خالی کریں لیکن اب علاقہ خالی کریں گے، لیکن اس کی شرائط ہوں گی۔

1۔دو ماہ میں مقامی افراد کی واپسی کی ضمانت دی جائے۔
2۔تیراہ میں کوئی امن کمیٹی یا ویلج کمیٹی نہیں بنائی جائے گی۔
3۔امن قائم رکھنا، سکیورٹی اداروں اور حکومت کی ذمے داری ہو گی۔
4۔نقل مکانی کے لیے مقامی افراد کو ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے گی۔
5۔ہر خاندان کو پانچ لاکھ روپے نقد اور ایک لاکھ ماہانہ ادا کیا جائے۔
6۔آپریشن کے بعد یقینی بنائے جائے گا کہ آئندہ کوئی فوجی کارروائی نہیں ہو گی۔

ملک کمال الدین کے مطابق آج بھی تیراہ میں کچھ مقامات پر دو دن کے لیے کرفیو لگا ہے لوگ گھروں سے جا رہے ہیں مگر محدود تعداد میں پورا گھر خالی نہیں کر رہے لیکن باقاعدہ نقل مکانی تب کریں گے، جب ہمارے مطالبات تسلیم کیے جائیں گے۔

ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی اسلام گل آفریدی کا کہنا تھا کہ ابھی جو دہشت گردی کی دوسری لہر چل رہی ہے اس میں کافی عرصے سے لوگوں کو کہا جا رہا تھا کہ علاقہ چھوڑیں۔

اُن کے بقول علاقے کے لوگوں کو مشکلات ہیں جرگہ آخری آپشن کے طورپر کیا گیا کیونکہ مقامی لوگوں کے اس شرائط ہر بھی تحفظات ہیں اب دیکھنا پڑے گا کہ حکومتی یقین دہانی کے بعد کتنے لوگ علاقہ چھوڑیں گے کیونکہ پہلے نقل مکانی ہوئی تھی اس کے متاثرین ابھی تک معاوضوں کے لیے چکر کاٹ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا کے متعدد علاقوں بشمول ٹانک، وادی تیراہ اور باجوڑ میں حالیہ کچھ عرصے میں جہاں بدامنی کے واقعات بڑھے ہیں، وہیں سکیورٹی فورسز کی ٹارگٹڈ کارروائیوں کے دوران شہریوں کی مبینہ ہلاکتوں پر مقامی افراد نے احتجاج بھی کیے ہیں۔

Share this content: