بھیک مانگنے والے ہزاروں پاکستانی مختلف ممالک سے ڈی پورٹ

مختلف ممالک میں بھیک مانگنے والے ہزاروں پاکستانیوں کوڈی پورٹ کردیا گیا۔

پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ بیرون ملک جا کر بھیک مانگنے کے جرم میں ڈی پورٹ (بے دخل) کیے جانے والے پاکستانیوں پر سفری پابندی بڑھائی جا رہی ہے جبکہ اِن افراد کو پاکستان میں بھی فوجداری کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بدھ کے روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں بریفنگ کے دوران ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے یہ انکشاف کیا ہے کہ رواں سال ہزاروں پاکستانیوں کو مختلف ممالک سے بھیک مانگنے کے الزام میں ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدی نے بتایا کہ ’بھیک مانگنے کے الزام میں بے دخل کیے جانے والوں پر سفری پابندیوں کو بڑھانے کی قانون سازی کی جا رہی ہے جس کا اعلان جلد ہو گا۔‘

ڈی جی ایف آئی اے کی بریفنگ کے مطابق رواں سال سعودی عرب نے 24 ہزار پاکستانیوں کو ’بھیک مانگنے پر ڈی پورٹ کیا جبکہ متحدہ عرب امارات نے چھ ہزار پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا۔‘

جبکہ حکام کے مطابق رواں سال آذربائیجان سے بھی ’ڈھائی ہزار بھکاریوں کو ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔‘

ایسا پہلی بار نہیں جب بھیک مانگنے کے جرم میں سعودی عرب سمیت دیگر ممالک سے پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا ہو۔

رواں سال مئی میں وزارت داخلہ نے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا تھا کہ گذشتہ ڈیڑھ سال کے عرصے میں مختلف ممالک سے پانچ ہزار سے زیادہ پاکستانی شہریوں کو بھیک مانگنے کے الزام میں ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ کی اس رپورٹ کے مطابق سال 2024 میں مجموعی طور پر 4850 افراد جبکہ مئی 2025 تک 552 پاکستانی شہری مختلف ممالک سے بھیک مانگنے کے جرم میں واپس بھیجے گئے۔ اس دوران سب سے زیادہ شہری سعودی عرب سے ڈی پورٹ ہوئے تھے۔

ان تفصیلات کے سامنے آنے پر وزارتِ داخلہ نے بیرون ملک سے ڈی پورٹ ہونے والے افراد کو پانچ سال کے لیے پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ ڈی پورٹ کیے جانے والے افراد کا پاسپورٹ منسوخ کرنے کے احکامات بھی فوری طور پر نافذ العمل کیے گئے تھے۔

Share this content: