ایمنسٹی انٹرنیشنل کا عمران خان کو فوری طور پر اہلِ خانہ اور وکلا تک رسائی دینے کا مطالبہ

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر پُرامن مظاہرین کے خلاف حکام کی جانب سے بار بار ہائی پریشر واٹر کینن کا استعمال پُرامن اجتماع کے آئینی حق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

انسانی حقوق پر کام کرنے واالی تنظیم کا کہنا ہے کہ پاکستان کے حکام کو عوام کے پُرامن احتجاج کے حق کا احترام کرنا چاہیے اور طاقت کے غیر متناسب اور سزا دینے والے طریقوں کو ختم کرنا چاہیے۔

ایمنسٹی کے مطابق گذشتہ شب راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان سے عدالتی حکم کے باوجود ملاقاتوں کی بار بار انکار کے خلاف دیے گئے پُرامن دھرنے کو ایک مرتبہ پھر واٹر کینن کے ذریعے منتشر کر دیا گیا۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ شدید سردی میں استعمال کیے گئے پانی میں کیمیائی مواد بھی شامل تھا۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کے مطابق بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق واٹر کینن صرف اُس وقت استعمال کیے جا سکتے ہیں جب بڑے پیمانے پر عوامی بدامنی یا تشدد کی صورتحال ہو۔

ایمنسٹی کے مطابق ان اقدامات نے پُرامن مظاہرین کی سلامتی اور عدالتی حکم کی عدم تعمیل پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حال ہی میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے تشدد نے عمران خان کی 23 گھنٹے طویل قید تنہائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بین الاقوامی معیار کے مطابق نفسیاتی تشدد کے مترادف ہے۔

تنظیم کے مطابق اہلِ خانہ اور قانونی مشیروں سے ملاقاتوں کی پابندی پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں، بشمول آئی سی سی پی آر اور انصاف کے تقاضوں، کی خلاف ورزی ہے۔

ایمنسٹی کے مطابق منڈیلا رولز کے مطابق اہلِ خانہ سے ملاقات پر پابندی کو بطور سزا یا تادیبی اقدام استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر اہلِ خانہ اور قانونی مشیروں تک رسائی دی جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ حراست کی تمام شرائط بین الاقوامی اصولوں اور معیارات کے مطابق ہوں۔

Share this content: