عوامی ایکشن کمیٹی یا عوامی تحریک کی باغ میں تقسیم کا پروپیگنڈا بہت منظم انداز میں کیا گیا۔ پروپیگنڈا ہمیشہ دشمن قوتیں کرتی ہیں لیکن اس پروپیگنڈا کا حصہ تحریک میں موجود وہ لوگ بن جاتے ہیں جو تضاد، اتحاد، تنقید،تقسیم و تعمیر کو گہرائی میں فکری اور عملی بنیادوں پر دیکھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔تعمیر کے اصول پر مبنی تنقید اور موقف کبھی تقسیم کی صورت اختیار نہیں کر سکتا کیونکہ تعمیر کا اصول ہمیشہ قربانیوں اور ذات کی نفی سے متعلق ہوتا ہے۔ تعمیر کے لیے تنقیدی موقف رکھنے والے افراد ہمیشہ جب تقسیم کی صورتحال کو دیکھتے ہیں تو اجتماعیت کے لیے ذات کی نفی کرتے ہیں اور یہ محض لفظوں سے نہیں بلکہ عمل سے ثابت ہوتا ہے۔اور عمل کو ہمیشہ عوام درست پیرائے میں بھانپ رہے ہوتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ پروپیگنڈے کے اثرات عمل سے شکست کھاتے ہیں۔
عوامی تحریک کو لیکر باغ میں واضح طور پر عوامی ایکشن کمیٹیز اور پیپلز پارٹی تضاد میں کھڑی ہیں اور یہ تضاد عوام اور حکمران طبقے کے درمیان ہے جو گہرا ہو گا اور ہر عوام دوست تحریکی اس تضاد کو گہرا کرنے کے لیے فکری اور عملی کردار ادا کرئے گا۔ اور ہر عوام دشمن فرد یا گروہ اس تضاد کو کم کرنے کی کوشش کرئے گا ۔
یہ تضاد طبقاتی ہے اور موجودہ تحریک کو لیکر اس کی حیثیت بنیادی ہے ،اس تضاد کو ایسے موقف کیساتھ کم کرنے کی کوشش کرنا کہ یہ اصلاحات کی تحریک ہے اس لیے حکمران طبقے کے مفادات اورعوام کے مفادات کے لیے ایک ہی وقت میں کام کیا جا سکتا ہے نہ صرف غلط ہے بلکہ عوام دشمن موقف اور بیانیہ ہے۔
اتحاد سے ہماری مراد کبھی بھی حکمران طبقے اور عوام میں اتحاد نہیں ہے، اتحاد کی ایسی صورت کو ہم مسترد کرتے ہیں۔ اتحاد سے مراد عوام کا اتحاد ہے اور عوام کا اتحاد عوام دوست اور عوام دشمن کی صورتیں اور شکلیں واضح کرنے سے ہی ممکن ہے جن کو ہم بغیر کسی ابہام کے واضح کرتے ہیں۔
جہاں تک تقسیم کا تعلق ہے تو جہاں بھی عوام کی تقسیم کا سوال آئے گا ہم اپنے آپ کی نفی کر کے اس تقسیم کو اتحاد میں بدلیں گے ۔یہ ہمارا نظریاتی فریضہ ہے جسے ہم نے ہر لمحہ نبھایا ہے اور نبھاتے رہیں گے۔ البتہ جہاں عوام دشمن اور عوام دوست قوتوں میں تقسیم ہو گی ہم اس تقسیم کو زیادہ جاندار طریقے سے واضح کریں گے،یہ ہمارا تحریکی فریضہ ہے۔ اسے سمجھنے کی ضرورت ہے یہ تقسیم تحریک کے حق میں تعمیری ہوتی ہے اسے گہرا کرنا فرض عین ہوتا ہے۔
اس تقسیم اور اتحاد کو لیکر یہ سمجھنا لازم ہے کہ مرکزہ مضبوط رہنا چاہیے خلیے بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں۔ اسے اور واضح اور آسان کریں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ عوامی ایکشن کمیٹی مرکزہ ہے باقی پیپلز پارٹی ،ن لیگ، جماعت اسلامی، پی ٹی آئی وغیرہ یہ خلیے ہیں ان میں سے جو بھی اپوزیشن میں ہو گا وہ تحریک میں شامل ہونے کی کوشش اپنے مقاصد کو لیکر کرئے گا اور جو حکومت میں آئے گا وہ تحریک میں موجود رہ کر اپنے مقاصد و مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرئے گا جس میں نا کامی پر وہ تقسیم کرنے کی کوشش کرئے گا اور ناکام ہونے کی صورت میں تحریک سے باہر ہو جائے گا۔ یہ عملی پوزیشنیں تحریک کیساتھ ساتھ رہیں گی ۔ہمارا فرض بنتا ہے کہ ان پوزیشنوں کو سمجھتے ہوئے مرکز کی جمہور کے اصولوں پر بنیادوں کو زیادہ منظم تعمیر میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔
ہم عام کارکن کی بات نہیں کرتے لیکن موجودہ وقت میں پیپلز پارٹی کی جو ضلعی سطح تک کی قیادت ہے وہ واضح طور پر عوامی تحریک کے تضاد میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو عوامی حکومت قرار دیتے ہوئے عوام کو ابہام کا شکار کرنے کی کاوشوں میں مصروف عمل ہے جس سے آنکھیں چرانے کا مطلب تحریک کو کمزور کرنے کے عمل میں باقاعدہ کردار ادا کرنے کے مترادف ہے۔
یہ واضح طور پر سمجھنا ضروری ہے کہ اس تضاد کو سمجھ کر دوٹوک موقف کیساتھ آگے بڑھنے والے دوستوں کے حوالے سے ایک پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا ممبر بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ عوامی ایکشن کمیٹی کے دوستوں اور عوام کو صاف اور واضح ہونا چاہیے کہ تضاد کی ان پوزیشنوں کو سامنے رکھ کر جہدوجہد کرنے والے دوستوں میں سے کوئی بھی دوست کسی بھی صورت موجودہ وقت میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا ممبر نہیں بنے گا ،نہ باغ سے اور نہ ہی پورے نام نہاد آزاد کشمیر سے ۔اس لیے اس پروپیگنڈا سے نکل کر عوامی تحریک کے موجودہ مرحلے کو اور حکمرانوں اور عوام کے درمیان موجود تضاد کو سمجھتے ہوئے خودکو منظم کریں کیونکہ یہ پروپیگنڈا کرنے والے دوست مکالمے مباحثے اور تعمیری گفتگو کے بجائے عوام اور عوامی ایکشن کمیٹیوں کے ممبران کو ابہام کا شکار کرنے کے لیے سر سری اور منظم پروپیگنڈا کرتے ہیں جو حقائق کے بالکل منافی ہے ۔
ہم بہت جلد اس پروپیگنڈے کے حوالے سے باغ میں میڈیا ٹاک کریں گے، جمہور کے لیے جہدوجہد اور ذاتی طور پر کسی عہدے کے حصول میں فرق واضح کریں گے اور دوستوں کو یہ یقین دلائیں گے کہ موجودہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا ممبر ہم میں سے کوئی بھی دوست کسی بھی صورت نہیں بنے گا۔ اداروں میں جمہور کی جہدوجہد کو وارڈ کی سطح سے لیکر مرکز تک جاری رکھیں گے ۔
٭٭٭
Share this content:


