باغ / کاشگل نیوز
پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ جموں و کشمیر ضلع باغ میں گورنمنٹ گرلز انٹر سائنس کالج سلوٹ کوٹھیاں جنوبی باغ کا ایک نہایت اہم تعلیمی ادارہ ہے، جو عرصۂ دراز سے بنیادی سہولیات کی کمی کے باوجود طالبات کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے میں مصروف ہے۔ بدقسمتی سے ادارے کو درپیش سب سے سنگین مسئلہ اس کی اراضی کی حدبندی نہ ہونا تھا۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق سال 2003 میں اس ادارے کے لیے 10 کنال زمین ایوارڈ کی گئی، تاہم حدبندی اور مکمل کاغذات کی عدم دستیابی کے باعث وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف اطراف سے تجاوزات ہوتی رہیں، یہاں تک کہ عملی طور پر ادارے کے پاس صرف 4 کنال زمین ہی باقی رہ گئی تھی۔
ایسے مشکل اور مایوس کن حالات میں جب نئی تعینات ہونے والی پرنسپل، محترمہ روبینہ قیوم خان نے ذمہ داریاں سنبھالیں تو انہوں نے سب سے پہلے ادارے کے بنیادی مسئلے کو سمجھا اور اس کے مستقل حل کا بیڑا اٹھایا۔
انہوں نے نہ صرف زمین سے متعلق تمام سرکاری کاغذات مکمل طور پر حاصل کیے بلکہ متعلقہ محکموں سے رابطہ کر کے باقاعدہ حدبندی کے عمل کا آغاز کروایا۔ اس دوران انہیں شدید مزاحمت، دباؤ اور مختلف قسم کی رکاوٹوں کا سامنا بھی کرنا پڑا، تاہم انہوں نے حوصلہ، استقامت اور قانونی راستے کو اپناتے ہوئے کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا۔
بالآخر ان کی انتھک محنت رنگ لے آئی اور ادارے کی مکمل حدبندی ممکن ہو سکی، جس کے نتیجے میں سرکاری زمین کو تجاوزات سے واگزار کروا لیا گیا۔ یہ ایک ایسا کارنامہ ہے جو نہ صرف ادارے بلکہ پورے علاقے کے لیے باعثِ فخر ہے۔ حدبندی کی تکمیل کے بعد اب ادارے میں طالبات کے لیے گراونڈ کی تعمیر کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے، جو اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ درست نیت اور مضبوط ارادے سے ناممکن کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
یہ امر قابلِ افسوس تھا کہ گراونڈ کی عدم موجودگی کے باعث طالبات نہ صرف جسمانی سرگرمیوں بلکہ ہم نصابی و غیر رسمی سرگرمیوں سے بھی محروم تھیں، جو ان کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ گراونڈ کی تعمیر سے اب بچیاں کھیلوں، جسمانی تربیت، تقریبات اور دیگر مثبت سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لے سکیں گی، جس سے ان کی خود اعتمادی، نظم و ضبط اور قائدانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا۔
اس نہایت اہم اور تاریخی موقع پر اگر حکومتِ وقت، متعلقہ محکمۂ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ ادارے کی عملی معاونت کرے، خصوصاً گراونڈ کی تعمیر کے لیے خصوصی فنڈز، سہولیات اور تکنیکی مدد فراہم کی جائے، تو یہ اقدام آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہوگا۔ عوامِ علاقہ سلوٹ، بانڈی اور قرب و جوار اس مثبت پیش رفت پر نہ صرف حکومت کے شکر گزار ہوں گے بلکہ بچیوں کی تعلیم و تربیت کے اس سفر میں شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔
بلاشبہ گورنمنٹ گرلز انٹر سائنس کالج سلوٹ کوٹھیاں کی یہ جدوجہد اس بات کی روشن مثال ہے کہ باصلاحیت اور مخلص قیادت کس طرح تعلیمی اداروں کے دیرینہ مسائل حل کر کے مستقبل کو روشن بنا سکتی ہے۔
Share this content:


