برطانیہ کے شہر Aylesbury میں کلاس اے منشیات کی فراہمی میں ملوث ایک پاکستانی نژاد ملزم کو عدالت نے 30 ماہ قید کی سزا سنا دی۔
مقامی پولیس Thames Valley Police کے مطابق ملزم عباس حسین اخلاق نے عدالت میں اعتراف کیا کہ وہ کلاس اے منشیات کی سپلائی کے نیٹ ورک میں شامل تھا۔
پولیس کے مطابق اکتوبر 2024 میں افسران نے وارنٹ کے تحت ملزم کے پتے پر چھاپہ مارا، جہاں سے کوکین، منشیات کے استعمال کا سامان، نقد رقم اور متعدد موبائل فون برآمد کیے گئے۔
تحقیقات کے دوران برآمد ہونے والے موبائل فونز میں سے ایک میں منشیات کی سپلائی سے متعلق متعدد پیغامات بھی ملے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ان پیغامات میں اشتہاری نوعیت کے پیغامات اور صارفین کی جانب سے منشیات کی طلب کی درخواستیں شامل تھیں، جس کے بعد کیس مزید مضبوط ہو گیا۔
حکام کے مطابق منشیات کی فراہمی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی کیونکہ ایسی سرگرمیاں معاشرے اور مقامی کمیونٹی پر تباہ کن اثرات ڈالتی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ منشیات کے خلاف کارروائیاں کھلے اور خفیہ دونوں طریقوں سے جاری ہیں تاکہ سپلائی کے نیٹ ورکس کو توڑا جا سکے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سزا پانے والے ملزم عباس حسین اخلاق کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے بتایا جاتا ہے، جبکہ اس کے والد مقامی اسمبلی کے رکن ہیں۔
واضح رہے کہ 2008 میں برطانیہ میں منشیات اسمگلنگ کے ایک بڑے مقدمے میں دس افراد کو سزا سنائی گئی تھی۔ اس دس رکنی گروہ میں شامل ایک شخص عنصر اقبال تھا جس کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع Mirpur District کے علاقے Dadyal سے تھا اور وہ برطانیہ کے شہر Birmingham میں مقیم تھا۔
عدالت نے عنصر اقبال کو 2008 میں آٹھ سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس دس رکنی گروہ پر Bradford، Manchester اور دیگر شہروں میں منشیات سپلائی کرنے کا الزام تھا۔
تقریباً دس ماہ جاری رہنے والی تحقیقات کے دوران پولیس نے 39 کلوگرام ہیروئن، ڈیڑھ کلوگرام ایمفیٹامین اور اسی مقدار میں کوکین برآمد کی تھی۔
بعد ازاں عنصر اقبال کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے چیئرمین انویسٹمنٹ بورڈ اور AJK Bank کے بورڈ کا رکں بھی مقرر کیا تھا، تاہم وہ بعد میں اس عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔
Share this content:


