پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع باغ میں پولیس کی کارروائی کے دوران ایک بیمار نوجوان کو مبینہ تشدد کا نشانہ بنانے کا واقعہ سامنے آیا ہے جس کے بعد اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق باغ میں دوپہر کے وقت پولیس نے ایک ہوٹل پر چھاپہ مارا اور رمضان کے تقدس کی پامالی کے الزام میں متعدد شہریوں کو حراست میں لے لیا۔ گرفتار افراد میں باغ کے نواحی علاقے سری منگ سے تعلق رکھنے والا نوجوان عامر بھی شامل تھا۔
اہلِ علاقہ کے مطابق عامر دل کے عارضے میں مبتلا ہے اور وہ بیماری کی وجہ سے دوائی لینے کے لیے ہوٹل پر رکا ہوا تھا۔ تاہم پولیس نے کارروائی کے دوران اسے بھی حراست میں لے لیا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ایک نوجوان کو شدید تکلیف میں دیکھا جا سکتا ہے جو خود کو عامر بتاتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ وہ دوائی لینے کے لیے ہوٹل گیا تھا لیکن وہاں سے اسے گرفتار کر لیا گیا۔
نوجوان کا کہنا ہے کہ اس نے پولیس کو بار بار اپنی بیماری اور دوائی کے بارے میں بتایا، یہاں تک کہ دوائی بھی دکھائی، لیکن اس کے باوجود اسے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
ذرائع کے مطابق تھانے میں حالت بگڑنے پر نوجوان کی طبیعت غیر ہو گئی جس کے بعد پولیس اہلکار اسے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال باغ چھوڑ کر وہاں سے چلے گئے۔
ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ نوجوان کو تشویشناک حالت میں داخل کیا گیا ہے جہاں اسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شہریوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے اور پولیس کارروائی کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
Share this content:


