اقوامِ متحدہ کے ایک خصوصی نمائندے کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو جن حالات میں جیل میں رکھا گیا ہے وہ ان کی جسمانی اور ذہنی حالت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں اور حکام پر زور دیا کہ وہ اس حوالے سے فوری اقدامات کریں۔
بدھ کے روز اقوام متحدہ کی تشدد سے متعلق خصوصی نمائندہ ایلس جل ایڈورڈز کا کہنا تھا کہ ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نظربندی کے دوران بشریٰ بی بی کی صحت کا تحفظ اور انسانی وقار کی ضمانت کو یقینی بنائے۔
اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اطلاعات کے مطابق اڈیالہ جیل میں قید بشریٰ بی بی کو مبینہ طور پر ایک چھوٹے سے سیل میں رکھا گیا ہے جہاں ہوا کا گزر بھی نہیں۔
بیان کے مطابق اطلاعات ہیں کہ بشریٰ بی بی کی کوٹھری نہ صرف گندی اور انتہائی گرم ہے بلکہ وہاں کیڑے مکوڑے اور چوہے بھی ہیں جبکہ بجلی بند ہونے کی صورت میں سیل مکمل طور پر اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انھیں پینے کے لیے گندا پانی دیا جاتا ہے جبکہ کھانے میں ضرورت سے زیادہ مرچ کے استعمال کی وجہ سے کھانا کھانے کے قابل نہیں ہوتا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اطلاعات کے مطابق، ان تمام حالات کے باعث نہ صرف بشریٰ بی بی کا تقریباً 15 کلو وزن کم ہو گیا بلکہ اس سے انھیں بار بار انفیکشن اور بیہوشی کا بھی دورہ پڑ رہا ہے۔
جل ایڈورڈز کا کہنا ہے کہ جن حالات میں بشریٰ بی بی کو رکھا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی معیار سے کہیں کم ہے۔ ’کسی بھی قیدی کو شدید گرمی، آلودہ خوراک یا پانی، یا ایسی حالتوں میں نہیں رکھا جانا چاہیے جس سے ان کے موجودہ طبی امراض میں اضافہ ہو۔‘
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو حراست کے حالات اور مقام کا تعین کرتے ہوئے قیدی کی عمر، جنس اور صحت کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
بیان میں کہا گیا کہ اطلاعات کے مطابق بشریٰ بی بی کو کو مبینہ طور پر حد سے زیادہ قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے اور انھیں کئی کئی دنوں تک دن میں 22 گھنٹے تک ان کے سیل میں رکھا جاتا ہے جبکہ بیرونی دنیا تک ان کی رسائی بھی انتہائی محدود ہے۔
ایڈورڈز کا کہنا ہے کہ ’حکام اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسز خان کے پاس اپنے وکلا سے رابطہ کر سکیں اور خاندان کے افراد سے ملاقاتیں کر سکیں اور حراست کے دوران بامعنی انسانی رابطہ برقرار رہے۔‘
اس متعلق حکومت کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا تاہم ماضی میں بارہا حکومتی نمائندوں کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جیل میں دوسرے قیدیوں کی نسبت کہیں زیادہ سہولتیں دستیاب ہیں۔
اس سے قبل انھوں نے پاکستانی حکومت سے عمران خان کی ’قیدِ تنہائی‘ فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
12 دسمبر کو جاری ایک بیان میں جل ایڈورڈز نے حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے ساتھ حراست کے دوران غیر انسانی اور ناروا سلوک کی خبروں کے متعلق فوری اور موثر کارروائی کرے۔
’میں پاکستانی حکام سے مطالبہ کرتی ہوں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ (عمران) خان کی نظر بندی پوری طرح سے بین الاقوامی اصولوں اور معیارات کے مطابق ہو۔‘
یاد رہے کہ رواں سال ستمبر میں عمران خان کی قانونی ٹیم نے سابق وزیرِ اعظم اور ان کی اہلیہ کے ساتھ جیل میں ناروا سلوک کے خلاف اقوام متحدہ کے ایک خصوصی نمائندے سے رجوع کیا تھا۔
Share this content:


