پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ جموں کشمیر میں پاکستانی فورسز اور خفیہ اداروں نے انگلینڈ کے شہر مانچسٹرسے آنے والے ایک کشمیری سیاسی ورکر کو حراست میں لینے، جبری گمشدگی ، شدید تشدد کے بعد چھوڑ دیا۔
جبری گمشدگی کے بعد بازیاب ہونے والے شخص کی شناخت صدام حیات کے نام سے ہوئی ہے جو راولاکوٹ کا رہائشی اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا ایکٹیو ممبر ہے۔
صدام حیات کو پاکستانی فورسز نے اس وقت حراست میں لینے کے بعد جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جاب وہ اپنے سسرال سے ایک شادی کی تقریب میں شرکت کرنے کے بعدواپس آرہے تھے اسے کلر سیداں روڈ پرگاڑی سے اتار ایک اور دوسر کے ساتھ جبری لاپتہ کردیا۔
بعدازان اس کے دوست کو ایک ویرانے میں چھوڑ گیا گیا جبکہ صدام حیات کو دو دن تک جبری لاپتہ رکھاگیا اوراسے تشدد کانشانہ بنایاگیا۔
بازیابی کے بعد صدام حیات نے اپنے ویڈیو بیان میں واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ انہیں شدیدتشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پوچھ گچھ کی گئی ڈاکٹر خالد توقیر تمہیں کتنا فنڈ کرتاہے ۔تم ایک ویڈیو بنائو جس میں کہو کہ تم منشیات کا کاروبار کرتے ہو ۔
صدام حیات نے کہا کہ انہوں نے میری موبائل فون اورگاڑی اپنے تحویل میں لئے جو اب تک ان کے پاس ہیں۔
پوچھ گچھ کے دوران مختلف آتے گئے اور مجھے پوچھتے گئے کہ تم کشمیر میں کیا کرنے آئے ہو؟ کیا تلاش کرنا ہے تمہیں یہاں، کون کون تمہیں فنڈ کرتاہے ؟ تم کشمیری غدار ہو، ایک سوئی بھی بنانے کی اوقات نہیں ہے تم لوگوں کی ۔
انہوں نے کہا کہ مجھے دو دن تک لاپتہ رکھا گیا اور جب میری کی جانب سےمیری گمشدگی پر آواز اٹھنے لگی تو بعد ازاں مجھے پولیس کے حوالے کردیاگیا۔
اپنے بیان میں صدام حیات کا کہنا تھا کہ پاکستانی فورسز کے ہاتھوں کسی کی بھی جان و مال محفوظ نہیں ہے ۔لوگ اپنے ہی زمین اور اپنے ہی ملک میں بری طرح عدم تحفظ سے ذہنی کوفت اور پریشانی کا شکار ہیں ۔
Share this content:


