بلوچستان میں 2 خواتین سمیت 4 افرادکی جبری گمشدگی کے خلاف دھرنا، سی پیک شاہراہ3 روز سے بند

بلوچستان کے ضلع کیچ میں 2 خواتین سمیت چار افراد کی مبینہ جبری گمشدگی کے خلاف دھرنے کے باعث گوادر اور کوئٹہ کے درمیان سی پیک شاہراہ جمعرات کو تیسرے روز بھی بند رہی۔

ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے ان افراد کی بازیابی کے لیے خواتین اور بچوں نے کرکی تجابان کے علاقے میں دھرنا دے رکھا ہے جس کی وجہ سے شاہراہ پر بڑی تعداد میں گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔

مقامی پولیس کے مطابق دھرنے کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔

دو خواتین سمیت چاروں افراد کو حب اور تربت سے لاپتہ کیا گیا، جن میں ہانی دلوش، حیرالنساء، مجاہد علی اور فرید اعجاز شامل ہیں۔

ہانی دلوش کے بھائی علی جان کا کہنا ہے کہ ’ان کی بہن ہانی دلوش 8 ماہ سے حاملہ ہیں جنھیں میری دوسری بہن خیر النساء کے ہمراہ 20 دسمبر کی شب حب میں گھر سے جبکہ مجاہد علی کو تربت شہر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ہماری حکومت سے اپیل ہے کہ خواتین سمیت خاندان کے تمام افراد کو بازیاب کرایا جائے۔

بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بھی ان افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

Share this content: