جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان ہونے والے آخری معاہدے پر مکمل عمل درآمد کے لیے حکومت نے جو مہلت لی تھی، وہ اب اپنے آخری ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ اب حکومت کے پاس صرف پانچ دن باقی ہیں،پانچ دن، اور صرف پانچ دن،کہ وہ معاہدے کے مطابق طے شدہ چارٹر آف ڈیمانڈ پر مکمل اور عملی عمل درآمد کرے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطابق اس کے بعد کسی وضاحت، کسی وعدے اور کسی تاخیری حربے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔
بدقسمتی سے حکومت اس لی گئی مہلت میں معائدے میں شامل کسی ایک مطالبے پر بھی کوئی عملی کام نا کر سکی اس کے۔برعکس حکومت نے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کر کے اپنی نیت واضح کر دی ہے۔ مہاجرینِ مقیم پاکستان کی مخصوص نشستوں پر منتخب ارکانِ اسمبلی کو مختلف پارلیمانی کمیٹیوں میں شامل کرنا، نہ صرف طے شدہ معاہدے بلکہ جمہوری اصولوں کی صریح نفی ہے۔ یہ اقدام کسی غلط فہمی یا انتظامی سقم کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک دانستہ اور سوچا سمجھا فیصلہ ہے۔
اس پر ستم یہ کہ سابق وزیر خزانہ جن پر پہلے ہی سنگین مالی و انتظامی الزامات عائد ہیں کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی جیسی حساس کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا گیا۔ سوال سادہ ہے جس شخص پر الزامات ہوں، وہ احتساب کا نگران کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ فیصلہ دراصل احتسابی نظام کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے۔
حکومت کے یہ تمام اقدامات اس سنگین خدشے کو تقویت دیتے ہیں کہ وہ دانستہ طور پر حالات کو خراب کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ عوام کو دوبارہ سڑکوں پر آنے پر مجبور کرنا، امن و امان کی صورتحال کو بگاڑنا، شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنا یہ سب اس لیے تاکہ انتخابات کو مؤخر کیا جا سکے اور موجودہ لاٹری کے ذریعے قائم حکومت کو اپنی مدت بڑھانے اور کرپشن کے لیے مزید وقت مل سکے۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ اگر مقررہ مدت میں مطالبات پورے نہ ہوئے تو کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے گا اور آئندہ کے لائحۂ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ یہ بھی دو ٹوک انداز میں کہہ دیا گیا ہے کہ اب کی بار جب عوام نکلیں گے تو آخری جنگ سمجھ کر نکلیں گے۔ یہ کوئی جذباتی نعرہ نہیں بلکہ مسلسل وعدہ خلافیوں، ناانصافیوں اور عوامی صبر کے ٹوٹنے کا اعلان ہے۔
کسی بھی معاشرے میں یہ ہرگز قابلِ قبول نہیں ہوتا کہ حکومت ہر چند ماہ بعد وعدے کرے، پھر ان وعدوں کو پامال کرے، اور عوام ہر بار سڑکوں پر آ کر قربانیاں دیں اور خاموشی سے واپس لوٹ جائیں۔ عوام نہ تھکنے والا ایندھن ہیں اور نہ ہی ان کی جانیں کسی سیاسی منصوبے کا ایندھن بن سکتی ہیں۔
حکومت کے لیے اب بھی وقت ہےمگر بہت کم صرف پانچ دن۔ان پانچ دنوں میں حکومت کیا کر سکتی ہے ؟
معاہدے کی تمام خلاف ورزیاں فوری واپس لی جائیں۔
چارٹر آف ڈیمانڈ پر مکمل عمل درآمد کیا جائے۔
متنازع تقرریوں کو منسوخ کیا جائے۔
اور شفاف، بروقت انتخابات کی راہ ہموار کی جائے۔
بصورتِ دیگر جو بھی عوامی ردِعمل سامنے آئے گا، اس کی تمام تر اخلاقی، سیاسی اور آئینی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔عوام اپنا فیصلہ سنا چکے ہیں۔اب امتحان حکومت کا ہے۔پانچ دن اور صرف پانچ دن !
***
Share this content:


