امریکہ اور عرب ممالک نے پاکستان کی معاشی اور عسکری تنہائی ختم کرکے اس کی فوج کو ایک نئی زندگی عطا کردی ہے۔
بہت سے امریکہ کے اتحادی اب پاکستان میں سرمایہ کاری کے معاہدے کر چکے ہیں۔ ایک مضبوظ فوج پاکستان کے سویلین اداروں، عدلیہ اور میڈیا پر مکمل براجمان ہو چکی ہے اور ان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتی ہے۔ ایسے میں مقبوضہ علاقوں کے محکوم عوام اور مذہبی اقلیتوں کی آزادیوں اور ان کے احتجاج کے حق کے سلب ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکہ کے پاکستان پر انحصار بڑھنے کے بعد بین الاقوامی ادارے پاکستان کے اندر فوج کے بڑھتے مظالم کو نظر انداز کر سکتی ہیں۔ اس سے ان لوگوں کی حوصلہ شکنی ہوگی جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھاتے ہیں۔ اور ملک میں انصاف کے دروازے اقلیتوں اور محکوم اقوام پر بند ہوجائیں گے۔
خدشہ ہے کہ فوج پہلے کی نسبت بلوچستان کے اندر مظالم میں اضافہ کرے گی اور مغربی ممالک سے ملنے والی رقم اور اسلحہ بلوچستان کے نہتے لوگوں پر استعمال کرے گی۔ بلوچ مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان کی فوج اور عوام ان کے ملک سے نکل جائے۔ وہ علاقے جو فوج کے تسلط سے باہر ہو رہے تھے وہاں پر فوجی ایکشن میں تیزی آئے گی۔
ممکن ہے کہ اس سے بچے اور خواتین سمیت عام شہری پر ظلم میں اضافہ ہو اور وہ دربدر ہوجائیں۔ اپریل2025 کی اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس سال بلوچوں پر مظالم میں اضافہ ہوا ہے جس میں ماوراء عدالت قتل اور اغوا شامل ہیں۔
رپورٹ لکھتی ہے کہ عدالتیں فوجی اور حکومتی اہلکاروں کے خلاف حکم دینے سے قاصر ہیں۔اور ظلم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو قومی سلامتی کے مفاد میں جائز قرار دے دیتی ہیں۔ ادارے فوج کی پالیسی سے اختلا ف نہیں کرسکتے جو دہشت گردی روکنے کے نام پر عام بلوچوں پر ظلم کر رہی ہے۔
ہیومن رائٹس کونسل آف بلوچستان کی رپورٹ کے مطابق 2025میں 480 لوگوں کو ماوراے عدالت قتل کیا گیا جن میں بہت سوں کی مسخ شدہ لاش سڑک کنارے ملی۔ جبکہ ہزاروں لوگ آج بھی نامعلوم مقام پر فوج کے پاس قید ہیں اور ظلم کا نشانہ بن رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے پشتونوں کی نمائندہ جماعت پی ٹی ایم پر پابندی لگا رکھی ہے اور اس کے رہنما علی وزیر جو کہ قومی اسمبلی کے ممبر تھے کو جیل میں رکھا ہوا ہے۔ سینکڑوں سیاسی کارکنوں کو دہشت گردوں کی حمایت کے الزام میں مقدمات کا سامنا ہے۔ پشتونوں کو انکی ثقافت لباس اور زبان کی بنیاد پر پنجاب اسلام آباد اور سندھ میں تعصب کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
پاکستان نے جن دہشت گردوں کو افغانستان اور بھارت پر حملہ کرنے کے لئے پالا تھا آج وہی ان کے فوجیوں پر حملے کر رہے ہیں اور پاکستانی حکومت اسکا بدلہ نہتے پشتونوں سے لے رہی ہے۔ جو پشتون اپنی بنیادی آزادی کی بات کرتے ہیں انکو طالبان کا حمایتی قرار دے کر مقدمے میں ملوث کرکے اذیت دی جاتی ہے۔ ہزاروں پشتونوں کی اظہار و تحریر و سیاسی حرکت کی آزادی اس لیے سلب کردی گئ ہے کیونکہ وہ عمران خان کے سپورٹر ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق ان تمام لوگوں کو امن کے ساتھ اپنے حقوق کے لئے احتجاج کاحق حاصل ہے اور فوج اس بہانے ان کو اغوا اور ظلم کا نشانہ نہیں بنا سکتی۔ امریکہ کی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی 2024کی رپورٹ کے مطابق فوج نے پیمرا کے قانون کے تحت میڈیا پر مکمل تسلط قائم کیا ہوا ہے اور ابلاغ کے تمام ذرائعوں پر عمران خان کا نام لینے کی پابندی ہے۔
اسی رپورٹ میں لکھا ہے کہ پاکستان کے ہندوئوں کو مذہبی آزادی حاصل نہیں اور انکو زبردستی مسلمان کیا جاتا ہے۔2024 میں ہندوئوں پر حملے کے 112 کیس رجسٹر ہوئے جبکہ اسی سال ہندوئوں پر بلاسفیمی کے 475کیس بنے اور ملزموں کو جیل میں ڈال دیا گیا جہاں ان پر ستم ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا کے ذریعے ہندوئوں کے خلاف نفرت پھیلائی جاتی ہے اور لوگوں کو ان پر حملے کرنے اور انکی زمینیں اور املاک پر قبضہ کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ سینٹر فار سٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ اور ہیومن رائٹس واچ کے مطابق مذہب کے بہانے سے ہندوئوں کو اپنے آبائی علاقوں سے بے دخل ہوکر بھارت منتقل ہونا پڑتا ہے اور جو احتجاج کرتے ہیں انکو بلاسفیمی کے نام پر جیل جانا پڑتا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے حساب سے سندھ اور پنجاب میں حکمران جماعتوں سے وابستہ با اثر شخصیات اور سیاستدان سندھ اور چولستان کے ہندوئوں پر ظلم کرتے ہیں اور انکی زمینوں سے بے دخلی کو ہوا دیتے ہیں اور عدالتیں ہندووں پر حملے کرنے والوں کو قانونی تحفظ دیتی ہیں۔ فوج کی اتحادی اسلامی جماعتیں جیسے کہ جماعت اسلامی ایک بار پھر زور پکڑ رہی ہے۔
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کی بڑھتی طاقت سے پاکستان کے اسلامی گروپوں کو نئی زندگی ملی ہے۔ اور جس طرح جنرل ضیاءالحق کے زمانے میں جماعت اسلامی کے ذریعے اقلیتوں کی زندگی اجیرن کردی گئی تھی اب ایسا دوبارہ ہونے کا خدشہ ہے۔
حال ہی میں جنرل عاصم منیر نے دو قومی نظریے کا نعرہ لگایا تو اس کے ذریعے پاکستان کے ہندوئوں کو پیغام گیا کہ وہ ایک الگ قوم ہیں اور پاکستانی مسلمانوں سے انکا کوئی تعلق نہیں۔ آنے والے دنوں میں بھارت کا براہ راست اثر پاکستانی ہندوئوں پر پڑے گا۔ بھارت سے بدلہ لینے اور نفرت کی ہوس نے میڈیا کو مجبور کیا کہ وہ نہ صرف بھارت کے خلاف زہر اگلیں بلکہ تمام ہندو مذہب کے ماننے والوں کو نشانہ بنائیں جس کی وجہ سے پاکستانی لوگ ہندوئوں کو بھارتی ایجنٹ کہہ کر حملے کر رہے ہیں۔
بھارت کو نقصان پہنچانے کے لئے کشمیر میں ایک بار پھر سے دہشت گردی شروع کردی گئی ہے۔ پہلگام کے حملے میں ملوث لشکر طیبہ کے سیف اللہ قصوری نے حال ہی میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوے کہا کشمیر میں بھارت سے آزادی تک جہاد جاری رہے گا۔ ان حرکتوں کا مقامی مسلمانوں کو کوئی بھی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ انکی معاشی اور معاشرتی زندگی تباہ ہوجاتی ہے۔
گلگت بلتستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے آباد کرنے سے مقامی شیعوں کو نقصان ہوتا ہے۔ ماضی میں فرقہ وارانہ لڑائیوں میں ہزاروں معصوم لوگوں کی جانیں گئیں۔ امن نہ ہونے کی وجہ سے کئی کئی ہفتے اور مہینے سکول و کالج بند رہے اور بچوں اور جوانوں کا مستقبل تباہ کیا گیا۔
تجارتی سرگرمیاں بند ہونے سے لوگوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑگئے۔ آپریشن سندور میں جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو ترکی اور چین کے علاوہ کسی ملک نے بھارت کی مذمت نہیں کی۔ اب حا لات بدل چکے ہیں اور امریکہ اور عرب مما لک پاکستانی فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ایسے میں علاقے میں ایک بڑی تباہی آسکتی ہے اگر پاکستان نے نام نہاد آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں دہشت گردی کے اڈے دوبارہ آباد کر کے بھارت پر رات کی تاریکی میں حملہ کرنے کی کوشش کی۔
اس دفعہ بھارت ایک فیصلہ کن جنگ کی سوچ رکھتا ہے۔ پاکستان نے کشمیر کے مقامی لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے کبھی نہیں سوچا اور انکو بھارت کے خلاف مہرے کے طور پر استعمال کیا۔ دیکھنا یہ ہے کیا مقامی لوگ اس بار بھی چپ چاپ دہشت گردی کے ظلم کو برداشت کریں گے یا پاکستان کی فوج کے خلاف اٹھ کھڑے ہوکر اپنے علاقوں کو آزاد کروا لیں گے۔
***
سینگے سیرنگ ،امریکہ میں مقیم انسٹی ٹیوٹ فار گلگت بلتستان اسٹڈیز کے بانی ہیں۔
Share this content:


