ایکشن کمیٹی اور حکومت مابین معاہدے پر اٹھنے والے سوالات پر اظہار برہمی۔۔۔فرحان طارق

غیر منطقی سماج لاشعوری طور پر اس خوف میں مبتلا ہوتا ہے کہ کہیں سچ کے بونچال سے نہ کوئی دیوار بچے گی نہ چھت رہے گی۔

بالکل اسی طرح کی صورتحال پاکستان زیرِ انتظام کشمیر میں دیکھی جا رہی ہے۔ وہ جو کل دوسروں پر اٹھائے جانے والے سوالات پر خوشی کے شادیانے بجاتے تھے، مگر وقت کی ساز و آہنگ میں پلتے سوالات نے جب پلٹا کھایا تو برا مان گئے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ تین برس سے جاری عوامی حقوق کی تحریک میں جہاں دن بدن چیزیں تبدیل ہو رہی ہیں وہیں اب تحریک کی قیادت کے کچھ ارکان تنقید کو جرم کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ اس تناظر میں خطے میں اندھی تقلید پرستی کے رجحان کو فروغ دینے کی بھی کوششیں ہو رہی ہیں، اور سوشل میڈیا پر ایک ایسی فورس ترتیب دی جا رہی ہے جو تنقید کرنے والوں کو غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹ رہی ہے۔

رجحان یافتہ بیانیے کے خلاف کھڑے ہونے والوں کی تعداد اگرچہ کم ہے، مگر وہ تنقید برائے اصلاح کی جانب توجہ دلا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب تحریک سے منسلک قیادت تحریک پر حقِ ملکیت کی دعوے دار نظر آتی ہے اور یہ تاثر دینے میں کوشاں ہے کہ سوال نہ کیا جائے، آنکھ، کان اور زبان بند کر دی جائیں، ورنہ تحریک کو نقصان پہنچے گا۔

درجنوں شعور بیداری کانفرنسوں کے باوجود اصل حقائق عوام سے چھپائے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ وقت آنے پر سب بتایا جائے گا۔ بھلا وہ وقت کب آئے گا؟ اور کتنی جانوں کا نذرانہ ہے وقت؟پاکستانی کشمیر میں 4 اکتوبر 2025 کوجوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی( JAAC )اور حکومتِ پاکستان کے مابین بظاہر ایک معاہدہ ہوا، مگر اس میں ایک "گارنٹر” نامی اصطلاح سامنے آئی، جس کے متعلق پوچھنے پر بتایا جاتا ہے کہ وقت آنے پر سب راز افشاں کیے جائیں گے۔

اب سوال یہ ہے کہ وہ گارنٹر فردِ واحد ہے یا کوئی ادارہ؟ اگر فردِ واحد ہے تو اس پر کامل یقین کیسا؟ اور اگر ادارہ ہے تو جمہوری تناظر میں کوئی غیر جمہوری ادارہ عوام کے فیصلوں کا گارنٹر کیسے بن سکتا ہے؟

ایک اور پہلو یہ ہے کہ JAAC کی قیادت یہ بھی واضح کرتی رہی ہے کہ ہم نظام میں رہ کر عوامی حقوق کی جدوجہد کرنا چاہتے ہیں، ہم اس سسٹم کو ختم نہیں کرانا چاہتے۔ یہ وہی سسٹم ہے جس کے متعلق اس خطے کے سابق وزیراعظم چوہدری انوار الحق نے خود اعتراف کیا تھا کہ یہ نحوست زدہ، تعفن زدہ نظام ہے۔

قیادت جہاں بہت سے امور پر تذبذب کا شکار ہے، کبھی یہ دعویٰ کہ اس خطے کے حکمرانوں کے پاس اختیارات نہیں، اختیارات کسی اور کے پاس ہیں، مگر جن کے پاس اختیارات ہیں ان سے اختیارات کے حصول کے بجائے گارنٹی کیسی؟

گویا اس خطے کے حکمرانوں اور JAAC قیادت کا مرشد خانہ ایک تو نہیں؟ کیا شیر اور بکری ایک ہی چشمے سے پانی پی رہے ہیں؟

Share this content: