بنگلہ دیش میں سیاسی تبدیلی سے پاکستانی مقبوضہ کشمیر اور گلگت بلتستان پر اثرات۔۔۔ سینگے سیرنگ

بنگلہ دیش میں ایک سولر حکومت جس پر بھارت کے حامی ہونے کے الزامات تھے، کو اقتدار میں معزول کر دیا گیاہے۔ اس تبدیلی کے بعد بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات میں گرم جوشی آ گئی ہے جس کا پاکستان کی فوج اورمذہبی سیاسی جماعتوں اور گروہوں نے خیر مقدم کیاہے۔ پاکستان کی فوجی قیادت اپنے عوام کے ساتھ اس تبدیلی کو بھارت کے خلاف ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

ایسے حالات میں بنگلہ دیش نے پاکستان کی اس پیشکش کو قبول کر لیا ہے جس کے تحت جنوبی ایشیا میں ایک ایسے اتحاد کا قیام عمل میں لانے کی کوششیں کی جائیں گی جو بھارت کے بڑھتے ہوئے سیاسی و عسکری اثر ورسوخ اور معاشی طاقت کے سامنے کھڑا ہوسکے۔

بنگلہ دیش میں اقتدار کی تبدیلی کے بعدمذہبی و سیاسی جماعتوں کو اجتماعات کی آزادی مل گئی ہے۔ہزاروں کی تعداد میں مذہبی شدت پسند،جن کو وزیر اعظم حسینہ واجد کے اقتدارکے دوران حراست میں لے لیاگیا تھا،اب کھلے عام اجتماعات میں شرکت کر رہے ہیںاور بھارت خلاف لوگوں کو اُکسا رہے ہیں ۔

ان اجتماعات میں لاکھوں لوگوں کے سامنے سیاسی قائدین بھارت کے ٹکڑے کرکے اس کی مشرقی ریاستوں کو بنگلہ دیش میں شامل کرنے کے عزائم کا اظہار کر رہے ہیں ۔ لوگوں کے جذبات ابھارکران کو بھارت کی ہائی کمیشن اور کونسلر سروس کی عمارتوں پر حملے کے لئے جتھوں کی شکل میں تیار کیا جارہا ہے ۔

سیکولر نظریات کے حامی شیخ مجیب جو کسی زمانے میں ملک کے ہیرو سمجھے جاتے تھے ، کی سابقہ رہائش گاہ پر حملہ کرکے اس کو جلا دیا جاگیا ہے اور ملک کے مختلف مقامات پر ان کے مجسموں کو توڑا اور گرا دیا گیا ہے۔
امریکہ کی مدد سے پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں اہم رول دیا جارہا ہے جس کے بعد دنیا میں پاکستانی کی سیاسی اور معاشی تنہائی ختم ہوگئی ہے ۔ایسے حالات میں بنگلہ دیش میں بھارت کے اتحادیوں کا کمزور پڑنااور بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات میں گرم جوشی آنے سے پاکستان کی فوجی قیادت کے اعتماد میں بہت اضافہ ہوا ہے۔اور اس اعتماد کا اظہارپاکستان کے آرمی چیف اور فیلڈ مارشل عاصم منیربار باردو قومی نظریے کی تجدید اور کشمیر کی آزادی کی حمایت سے کر رہے ہیں۔انہوں نے ان باتوں کا اظہار اپنے امریکہ کے دوروں کے دوران بھی کیا ۔ان کے جانے کا مقصد امریکی کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مشرق وسطیٰ میں اقدامات کو سراہنا اور حمایت کا اظہار کرنا تھا۔

بنگلہ دیش میں لاکھوں کے اجتماعات میں بھارت کے ٹکڑے کر نے اور مذہبی جماعتوں کے اتحادسے پاکستان میں موجود رہنما اور میڈیا کے نمایاں کردار فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان میں اکثر تعداد ان لوگوں کی ہے جو بھارت سے بدلہ لینے کے خواہاں ہیں۔میڈیا میں فوج کے قریب لوگ کشمیر میں جہاد کو تازہ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں اور پاکستانی عوام کے ذہن آنے والے دنوں کے تیار کر رہے ہیں۔یہ لوگ خالصتان کی آزادی اور کشمیر کو پاکستان میں شامل کرکے بھارت کو سبق سکھانا چاہتے ہیں۔

پاکستان کی آرمی بھی اس نظریے کی حامی ہے اور بنگلہ دیش کے ساتھ مل کر بھارت کو جنوبی ایشیا میں تنہائی کا شکار کرنا چاہتی ہے ۔پاکستان اور پاکستانی کے مقبوضہ کشمیر اور گلگت بلتستان میں کشمیر کی آزادی اورخالصتان کے قیام کے حامی مذہبی شدت پسند لوگوں کو اُبھاراجارہا ہے ۔اور حکومتی سرپرستی میں ان کو میڈیاپر بھی اہمیت دی جارہی ہے ۔

آپریشن سندور کے بعداخباروں کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آرمی نے پاکستان کے نام نہادآزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں دہشت گردی کے ٹھکانوں کو پھر سے آباد کرنا شروع کردیاہے ۔خدشہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں خدمات کے عوض جو رقم ملے گی اس کو پاکستان کی ملٹری قیادت بھارت کے خلاف استعمال کرنا چاہتی ہے۔

افغان جہاد کے خاتمے بعدبنگلہ دیش میں تبدیلی سے پاکستان کی فوج کو ایک نئی زندگی ملی گئی ہے اور وہ اس موقع کو بھارت کے خلاف استعمال کرنے کا پورا ارادہ رکھتی ہے۔

پاکستان نے افغان جہاد میں حصہ لیا تو کشمیر اور گلگت بلتستان کی معاشرت اور معیشت دونوں پر بہت برے اثرات مرتب ہوئے ۔مقامی ثقافت تباہ و زبوں حالی کا شکار ہوگئی اور لوگوں میں مذہبی جنونیت انتہا کو پہنچ گئی ،اُنہی دہائیوں میں شیعہ سنی قتل و غارت گری میں نمایا ں اضافہ ہوااور ہزاروں لوگوں کو حفظ ماتقدم اپنے علاقوں سے ہجرت کرنا پڑی ۔آنے والے دنوں اور مہینوں میں حالات اسی ڈگر پر چلتے نظر آرہے ہیں۔جہاں گلگت میں مذہبی رہنمائوں پر قاتلانہ حملے بڑھ گئے ہیں وہیں وادی کشمیر میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے ۔جبکہ جموں میں ہندوئوں کو قتل کیا جارہا ہے ۔

نام نہاد آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں آنے والے دنوں میں سیکولر، قوم پرست اور پروگریسو لوگوں پر حملے بڑھ جائیں گے ۔مقامی حقوق کے علم بردار قوم پرستوں پرزمین تنگ کردی جائے گی ۔عوامی ایکشن کمیٹی کے لوگوں کو بھارتی ایجنٹ کے طور پر پیش کرکے زدو کوب کیا جائے گااور جیلوں میں ڈالا جائے گا۔لینڈ ریفارم کے نام پر پہلے ہی لوگوں کی جدی پُشتی زمینوں پر قبضہ شروع ہوگیا ہے ۔اب مقامی شناخت کو اسلام کے نام پر نشانے پر لیا جائے گا۔

ایسے حالات میں نام نہاد آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لوگوں کا اتحادضروری ہے ۔مقامی شیعہ اور سنی کو مل کر پاکستان سے برآمد ہوئی جہاد کے خلاف بات کرنا ہوگی۔ہمارا بچائو پاکستان کے قبضے میں جموں کشمیر کے تمام علاقوں بشمول گلگت کے اتحاد میں مضمر ہے ۔

نام نہاد آزاد کشمیراور گلگت بلتستان کو ایک انتظامی یونٹ کی تشکیل کا مطالبہ ہونا چاہیے ۔نہیں تو آنے والی نسلیں بچ نہیں سکیں گی۔ا س کے لئے ایک نکاتی ایجنڈا تشکیل دیا جائے اور دونوں علاقوں کے انتظامی ادغام کا مطالبہ کیا جائے ۔

دونوں علاقوں کی ایکشن کمیٹی کا تحاد بھی وقت کی ضرورت ہے ۔جب تک نام نہاد آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لوگ حکمت کا مظاہرہ نہیں کریں گے اور ون یونٹ نہیں بنائیں گے اس وقت تک پاکستانی ہمیں نوچتے رہیں گے ۔

***

سینگے سیرنگ ،امریکہ میں مقیم انسٹی ٹیوٹ فار گلگت بلتستان اسٹڈیز کے بانی ہیں۔

Share this content: