متنازع ٹویٹس کیس میں فوج کے ترجمان کو بطور گواہ بلایا جائے، ایمان مزاری

پاکستان میں انسانی حقوق کی کارکن ایڈووکیٹ ایمان مزاری نے اپنے خلاف عدالت میں زیر سماعت ’متنازع ٹویٹس کیس‘ پر اثر انداز ہونے کا الزام لگاتے ہوئے فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کو بطور گواہ عدالت بلانے کی درخواست دائر کی ہے۔

اسلام آباد سیشن کورٹ میں دائر درخواست میں ایمان مزاری کا موقف ہے کہ پریس کانفرنس کے ذریعے ڈی جی آئی ایس پی آر نے ان کے خلاف بیان دیا، انھیں خود کش بمباروں کے لیے انسانی حقوق کا کارکن قرار دیا اور یہ الزام بھی لگایا کہ ان کی ڈوریاں بیرون ملک سے ہلائی جا رہی ہیں۔

ایمان مزاری کے مطابق ایک سرکاری افسر ہونے کے ناطے پاک فوج کے ترجمان کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ عدالت میں چلنے والے مقدمے پر اثر انداز ہوں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کو متعصبانہ قرار دیتے ہوئے اپنی درخواست میں ایمان مزاری کا کہنا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کو بطور گواہ بلایا جائے اور ان پر جرح کی جائے کیوں کہ ان کے لگائے الزامات کے ’ثبوت‘ سامنے آنا کیس کے لیے ضروری ہے۔

درخواست کے مطابق ’بد نیتی سے دیے گئے ان متعصبانہ بیانات پر اگر جرح نہ کی گئی تو مقدمہ خراب ہو گا۔ ایسا نہ ہونے کی صورت ملزموں کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا اور ضروری ہو گا کہ مقدمہ ہی کالعدم قرار دے دیا جائے۔‘

جج افضل مجوکا نے ڈی جی آئی ایس پی آر کو بطور گواہ طلبی کی درخواست پر استغاثہ کو نوٹس جاری کر دیا۔ عدالت نے درخواست کی کاپی استغاثہ کو بھی فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن اتھارٹی کے سب انسپیکٹر کی مدعیت میں ایمان مزاری، ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ 22 اگست 2025 کو درج کیا گیا تھا جس میں کہا گیا کہ ملزم سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کا یہ عمل ریاست مخالف ہے۔

مقدمے میں کہا گیا کہ ملزم سوشل میڈیا پر کالعدم تنظیموں کے بیانیے کی ترویج کر رہے ہیں اور منصوبہ بندی کے تحت ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد ختم کرنا اور ملک میں بدامنی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

Share this content: