اپنی عوام پر واردات کون ڈالتا ہے یہ سب کو پتہ ہے، ایمان مزاری کا ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر ردعمل

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی منگل کے روز ہونے والی پریس کانفرنس اس وقت بھی پاکستان کے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہی ہے۔

اس پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے جہاں پاکستان میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات اور ان میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے حوالے سے بریفنگ دی وہیں انھوں نے بانی پی ٹی آئی اور خیبرپختونخوا کی حکومت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

اس پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی کہا کہ جب دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے تو باہر کے ملک اور حتیٰ کے پاکستان میں بھی کچھ لوگ بیٹھ کر ان (دہشتگردوں) کے حق میں ٹویٹس کرنے لگتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’جب آپ انھیں پکڑتے ہیں اور ان کے جرائم کو سامنے لاتے ہیں تو پردہ نشین اور باریک وارداتیوں کو بھی سامنے آنا پڑتا ہے۔‘

اس دوران فوجی ترجمان نے کچھ سکرین شاٹس بھی دکھائے جن میں انسانی حقوق کی کارکن اور وکیل ایمان مزاری کی ٹویٹس بھی شامل تھیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس دوران ایمان مزاری کا نام تو نہیں لیا لیکن ان کی ٹویٹ کے سکریٹ شاٹس دکھاتے ہوئے کہا کہ ’یہ خود کو انسانی حقوق کی کارکن کہتی ہیں۔ یہ کس کے انسانی حقوق ہیں؟ خود کش بمبار جسے گھر میں بٹھایا ہے، جو ان کی سہولت کاری کرتا ہے اس کے انسانی حقوق کی سہولت کاری کے لیے۔ ان سب کی ڈوریاں باہر سے چلتی ہیں۔‘

ایمان مزاری نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کا جواب انتہائی سخت الفاظ میں دیتے ہوئے کہا کہ ’اپنی عوام پر واردات کون ڈالتا ہے یہ سب کو پتہ ہے۔‘

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر اور ایمان مزاری کی حمایت میں سوشل میڈیا پر مختلف لوگ بات بھی کر رہے ہیں۔

اس بحث میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کی حمایت کرتے نظر آئے اور کہا کہ ایمان مزاری ’ریاستی اداروں کو نشانہ بناتی رہتی ہیں۔‘

واضح رہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن اتھارٹی کے سب انسپیکٹر کی مدعیت میں ایمان مزاری، ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ اور چند دیگر افراد کے خلاف گذشتہ برس 22 اگست کو ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ملزمان سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کا یہ عمل ریاست مخالف ہے۔

یہ کیس ابھی عدالت میں زیر سماعت ہے۔

Share this content: