پاکستانی کشمیر: حکومت و ایکشن کمیٹی مابین معاہدے پر عدم عمل درآمد سیاسی کشیدگی بڑھنے کا امکان

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں 4 اکتوبر 2025 کو جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، پاکستان کے وفاقی وزرا اور آزاد حکومتِ کشمیر کے درمیان ایک اہم معاہدہ طے پایا تھا، جسے خطے میں جاری عوامی بے چینی کے خاتمے کی جانب ایک پیش رفت قرار دیا گیا۔

اس معاہدے میں مہاجرینِ مقیم پاکستان کی مخصوص نشستوں کے خاتمے کے لیے قانونی ماہرین پر مشتمل کمیٹی کے قیام، شہدا و زخمیوں کے لیے معاوضوں، بہتر انٹرنیٹ سروس کی بحالی اور صحت کارڈ کی بحالی جیسے بنیادی نکات شامل تھے، جن پر عملدرآمد کے لیے 90 روز کی مدت مقرر کی گئی۔

یہ مدت 3 جنوری 2026 کو مکمل ہو چکی ہے، مگر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ وفاق اور آزاد حکومت نے معاہدے کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں، جس کے باعث مزید مذاکرات فی الحال ممکن نہیں۔ ایکشن کمیٹی کے کور ممبر شوکت نواز میر کے ان نوے دنوں میں صحت کارڈ نہ بحال کیا گیا نہ ہی نوے روز می طے چھ میٹینگز ذ کا انعقاد کیا گیا وفاقی وزرا اور آزاد حکومتِ کی جانب سے معاہدے کی صریح خلاف ورزیاں کی گئیں۔

دوسری جانب، 29 دسمبر 2025 کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جس میں مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک نئی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ یہ اقدام بظاہر پیش رفت دکھائی دیتا ہے، مگر ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ عملی طور پر کوئی ٹھوس تبدیلی سامنے نہیں آئی۔

ادھر وزیراعظم آزاد کشمیر کا دعویٰ ہے کہ ایکشن کمیٹی کے 98 فیصد مطالبات پورے کر دیے گئے وزیراعظم سیکٹریٹ کے ترجمان نے وائس پی کے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایکشن کمیٹی کے زیادہ تر معاملات حل کر دیے گے ہیں ،کچھ معاملات باقی ہیں جن کے حل کے لیے حکومت اپنی پوری توجہ سے کام میں مصروف ہے۔

ترجمان وزیراعظم سیکٹریٹ نے مزید کہا کہ پیپلزز پارٹی کے دور اقتدار میں احتجاج کو تشدد کے ذریعے کبھی نہیں ختم کیا جائے گا جبکہ ایکشن کمیٹی کے کور ممبران اس دعوے کو محض کاغذی کارروائی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق زمینی حقائق اور عوامی مسائل جوں کے توں موجود ہیں۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق خطے کی سیاسی اشرافیہ خطے عوام مسائل حل کرنے کے لیے مخلص نہیں ،آزاد کشمیر حکومت جو مطالبات پوری نہیں کر سکتی ، ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے، آزاد کشمیر میں آنے والوں دنوں میں صورتحال بہتر نہیں ہو گی،خطے میں دن بدن سیاسی کشیدگی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔

Share this content: