حکومت کا مظاہرین کو سزائے موت دینے کا ارادہ نہیں،ایرانی وزیرِ خارجہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں مظاہروں کے دوران گرفتار ایک نوجوان کی ممکنہ سزاِ موت کے حوالے سے سامنے آنے والی نئی اطلاعات کا خیرمقدم کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایرانی عدلیہ کا کہنا ہے کہ عرفان سلطانی نامی نوجوان پر عائد الزامات سزائے موت کے زمرے میں نہیں آتے۔

امریکی صدر نے اس پیشرفت کو ’اچھی خبر‘ قرار دیا اور اُمید ظاہر کی کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ انھوں نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ اگر ایران مظاہرین کی سزائے موت پر عملدرآمد شروع کرتا ہے تو امریکہ ’انتہائی سخت اقدام‘ کرے گا۔

دوسری جانب ایران کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ حکومت کا ایسے افراد کو جو احتجاجی مظاہروں میں شرکت کے باعث گرفتار ہوئے ہیں سزائے موت دینے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتی۔

گزشتہ روز ایرانی عدلیہ نے اعلان کیا تھا کہ ’عرفان سلطانی‘ کو تاحال سزائے موت نہیں سنائی گئی۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے عدلیہ کے حوالے سے بتایا تھا کہ ’10 جنوری کو بدامنی کے دوران عرفان سلطانی کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر ملک کی داخلی سلامتی کے خلاف اجتماع، سازش اور حکومت مخالف سرگرمیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔‘

مزید بتایا گیا کہ وہ اس وقت کرج سینٹرل جیل میں زیرِ حراست ہیں۔

جمعرات کے روز ایرانی عدلیہ کی جانب سے مزید کہا گیا تھا کہ ’اگر ان کے (عرفان سلطانی) خلاف الزامات ثابت ہو جاتے ہیں اور کسی عدالت سے قانونی فیصلہ جاری ہوتا ہے تو قانون میں اس جرم کی سزا قید ہے۔ ایسے الزامات کے لیے سزائے موت کا قانون موجود نہیں۔‘

واضے رہے کہ اس سے قبل عرفان سلطانی کے ایک رشتہ دار کا کہنا تھا کہ ’انتہائی تیز رفتار کارروائی میں صرف دو دن کے اندر عدالت نے سزائے موت کا فیصلہ سنایا اور خاندان کو بتایا گیا کہ انھیں 14 جنوری کو پھانسی دی جائے گی۔‘

Share this content: