امدادی کارکنوں کے مطابق غزہ میں اسرائیلی حملے کے نتیجے میں تین فلسطینی صحافی ہلاک ہو گئے ہیں۔
غزہ کی حماس کے زیرِ انتظام سول ڈیفنس ایجنسی نے بتایا کہ الزہرہ کے علاقے میں ان صحافیوں کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ ہلاک ہونے والے صحافیوں کی شناخت محمد صلاح قشطہ، انس غنیم اور عبد الرؤف شاعت کے نام سے کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک مصری امدادی تنظیم کے لیے کام کر رہے تھے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ’حماس سے منسلک ڈرون چلانے والے متعدد مشتبہ افراد کو نشانہ بنایا جو ان کے فوجیوں کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔‘ فوج نے مزید کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
بدھ کے روز غزہ بھر میں اسرائیلی توپ خانے اور فائرنگ کے نتیجے میں مزید آٹھ افراد ہلاک ہوئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں، ان ہلاکتوں کی تصدیق حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کی جانب سے کی گئی ہے۔
طبی عملے کے مطابق، وسطی غزہ میں اسرائیلی ٹینک کی فائرنگ سے تین افراد، جن میں ایک 10 سالہ لڑکا بھی شامل ہے، ہلاک ہوئے۔ اسی طرح جنوبی علاقے خان یونس میں اسرائیلی فائرنگ سے ایک 13 سالہ لڑکا اور ایک خاتون ہلاک ہوئے۔ یہ اطلاعات خبر رساں ادارے رائٹرز نے دی ہیں۔
اسرائیلی فوج نے بدھ کی صبح بیان میں کہا کہ اس کے فوجیوں نے ایک ’دہشت گرد کو ہلاک کیا جو ’یلو لائن‘ عبور کر کے ان کے قریب آنے کی کوشش میں تھے۔‘ یلو لائن اس علاقے کی حد بندی کرتی ہے جو جنگ بندی معاہدے کے تحت اب بھی اسرائیلی کنٹرول میں ہے۔
حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے مطابق، 10 اکتوبر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اب تک غزہ میں کم از کم 466 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسی مدت کے دوران فلسطینی مسلح گروہوں کے حملوں میں اس کے تین فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
Share this content:


