مظفرآباد / نیلم /کاشگل نیوز خصوصی رپورٹ
پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ جموں و کشمیر میں نئی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی سیاحت کے نام پر قدرتی وسائل پر مبینہ قبضوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق بدنامِ زمانہ گرین ٹورازم نامی کمپنی نے طاقتور حلقوں کی مکمل سرپرستی میں جموں و کشمیر کے حساس اور خوبصورت سیاحتی مقامات پر اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔
گرین ٹورازم نامی کمپنی کے حوالے سے کہا جارہا ہے کہ وہ پاکستانی فوج کی ایک کاروباری ذیلی کمپنی ہے۔یادرہے کہ پاکستانی فوج کے زیرِ انتظام کاروباری اداروں کی مجموعی تعداد تقریباً 50 کے قریب بتائی جاتی ہے، جن میں فلاحی ٹرسٹ، ہاؤسنگ اتھارٹیز، صنعتی و تجارتی کمپنیاں اور سروس سیکٹر کے ادارے شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنی نے پہاڑی علاقوں، جھیلوں اور چراگاہوں تک قبضے کرنے کا باقاعدہ پلان تیار کر رکھا ہے، جبکہ زمینوں کی الاٹمنٹ خفیہ کارروائیوں کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ سیاحت کے فروغ کے نام پر بلند و بالا پہاڑی چوٹیوں تک کھدائی کر کے قدرتی ماحول، بالخصوص جنگلات اور دیگر قدرتی وسائل کو شدید نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔
گزشتہ سال تاؤبٹ سے براستہ قمری سڑک کی تعمیر کے دوران قیمتی جنگلات کی بڑے پیمانے پر کٹائی کی گئی، جس کا مقصد ذرائع کے مطابق تاؤبٹ سے قمری اور منی مرگ تک مختلف مقامات پر قبضہ جما کر سیاحتی شعبے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا تھا۔
ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ اس غیر منصوبہ بند تعمیرات سے نہ صرف ماحولیاتی توازن بگڑ رہا ہے بلکہ آنے والے وقت میں شدید قدرتی آفات کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔
ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ گرین ٹورازم کمپنی کی جانب سے اعلیٰ سطح پر معاملات طے کرنے کیلئے چیف سیکرٹری اور وزیر سیاحت کے ساتھ ملاقاتیں بھی کی گئی ہیں، جس کی تصاویر منظرعام پر آچکی ہیں۔ ان ملاقاتوں نے عوامی حلقوں اور سول سوسائٹی میں شدید تشویش کو جنم دیا ہے۔
سماجی اور ماحولیاتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت مزاحمت نہ کی گئی تو جموں و کشمیر کے جنگلات، چراگاہیں اور قدرتی حسن ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار ہو جائیں گے۔ سول سوسائٹی، ماحولیاتی تنظیموں اور عوامی نمائندوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ قدرتی وسائل کے تحفظ، جنگلات کی بقا اور ماحولیاتی سلامتی کیلئے اپنا مؤثر کردار ادا کریں، بصورت دیگر تباہی ہمارا مقدر بن سکتی ہے۔
Share this content:


