آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کی سیاسی حیثیت اور پاکستان کے کنٹرول کے حوالے سے صورتحال بہت پیچیدہ اور حساس ہے۔ کنٹرول فوری طور پر ختم کرنا ممکن نہیں، لیکن مستقل اور مرحلہ وار حکمت عملی، عوامی شعور، اور بین الاقوامی دباؤ کے ذریعے تبدیلی کے امکانات موجود ہیں۔
سب سے پہلے ضروری ہے کہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام مضبوط، متحد اور واضح سیاسی مطالبات کریں۔ اگر یہ مطالبات بین الاقوامی سطح پر بھی اجاگر ہوں تو پاکستان پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں عوامی تحریک محدود ہے اور پاکستان کی مضبوط سیکیورٹی اور انتظامیہ فوری تبدیلی میں رکاوٹ ہیں۔
بین الاقوامی ادارے اور طاقتیں، جیسے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں، اگر مستقل دباؤ ڈالیں یا پاکستان کے سیاسی و اقتصادی مفادات پر اثر ڈالیں تو کنٹرول بدلنے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ اس کے باوجود عالمی طاقتیں اکثر پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دیتی ہیں ۔
پاکستان ابھی تک آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو حقیقی سیاسی اختیار دینے کے لیے تیار نہیں ہے، اور موجودہ انتظامیہ اور فوجی اثرورسوخ کنٹرول برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاریخی ناکامیاں، سیاسی مزاحمت، اور عالمی طاقتوں کی خاموشی اس پیچیدہ صورتحال کو مزید مستحکم کرتی ہے، لیکن اس کے باوجود عوامی شعور، عوامی تحریک، اور بین الاقوامی دباؤ کے ذریعے طویل المدتی تبدیلی کے امکانات موجود رہتے ہیں۔
اس مقصد کے لیے ایک مرحلہ وار راستہ اپنانا ضروری ہے۔ سب سے پہلے عوامی شعور اور عوامی تحریک میں اضافہ ضروری ہے، جس میں نوجوانوں، خواتین، طلبہ، سول سوسائٹی، اور عوامی سیاستدانوں کی طرف سے مطالبات سامنے آئیں اور میڈیا اور سوشل میڈیا پر آگاہی پھیلائی جائے۔ اس کے بعد بین الاقوامی دباؤ پیدا کرنا اہم ہے تاکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عالمی ذرائع ابلاغ مطالبات کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کریں۔ پاکستان کے اندر جمہوری دباؤ اور آئینی اصلاحات کے نتیجے میں گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے لیے زیادہ خودمختاری یا الگ سیاسی حیثیت ممکن ہو سکتی ہے، اگرچہ یہ عمل فوری نہیں بلکہ آہستہ اور مرحلہ وار ہوگا۔
گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمیر میں متحد جدوجہد کے لیے سب سے پہلے دونوں علاقوں کی الگ الگ شناخت کو ایک مشترکہ بیانیے میں جوڑنا ضروری ہے۔ نعرے نہیں، بلکہ حقوق، شناخت اور فیصلہ سازی کو ترجیح دینی چاہیے۔ عوامی سطح پر اتحاد قائم کرنے کے لیے طلبہ، وکلا، اساتذہ، صحافی، خواتین اور سول سوسائٹی کا پلیٹ فارم بنایا جا سکتا ہے، جس کا مقصد سیاست نہیں بلکہ حقوق اور آئینی حیثیت ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ مشترکہ کم از کم مطالبات مرتب کرنا ضروری ہے، جیسے آئینی تحفظ، زمین اور وسائل پر عوامی اختیار، اظہارِ رائے کی آزادی، فیصلوں میں نمائندگی، اور متنازع حیثیت کا بین الاقوامی اعتراف۔
تحریک کے دوران پرتشدد احتجاج یا ریاست سے براہِ راست ٹکراؤ سے گریز کرنا چاہیے۔ اس کے بجائے قانونی مقدمات، انسانی حقوق کی دستاویزات، میڈیا اور بیرونِ ملک موجود آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کا استعمال مؤثر راستہ ہے۔ جب اندر سے متحد آواز پیدا ہو جائے تو اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عالمی ذرائع ابلاغ میں معاملہ اجاگر کیا جا سکتا ہے۔
تلخ حقیقت یہ ہے کہ جب تک گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر الگ الگ سوچتے رہیں گے اور ایک دوسرے کو ثانوی سمجھیں گے، پاکستان مضبوط رہے گا اور دنیا خاموش رہے گی۔ اسی لیے اجتماعی جدوجہد کوئی نعرہ نہیں بلکہ ایک نظم و ضبط ہے، جس میں پہلے متحد شناخت قائم کی جائے، پھر مشترکہ مطالبات سامنے آئیں اور آخر میں آہستہ مگر مستقل دباؤ کے ذریعے حقیقی تبدیلی لائی جائے۔ یہ دیرپا، حقیقت پسندانہ اور مرحلہ وار عمل ہے، جس میں عوامی شعور، بین الاقوامی دباؤ، اور سیاسی اصلاحات بنیادی کردار ادا کرتے ہیں ۔
حقیقی تبدیلی کا پہلا قدم پر امن مزاحمت ہے، کیونکہ یہ خوف کم کرتی ہے، عوامی شعور بڑھاتی ہے، اور عالمی سطح پر عوامی مطالبات کو اجاگر کرنے کا موقع دیتی ہے، لیکن یہ آخری قدم نہیں ہے۔ اس کے بعد مستقل سیاسی دباؤ، قانونی جدوجہد، بین الاقوامی سطح پر نمائندگی اور مرحلہ وار اصلاحات کی ضرورت ہوگی۔ اگر عوام متحد رہیں، اپنی شناخت اور حقوق کی حفاظت کریں، تو وہ پاکستان کے کنٹرول کے باوجود مستقبل میں اپنے فیصلے کرنے کا حق حاصل کر سکتے ہیں۔ یہی مجموعی اور منظم عوامی جدوجہد سب سے مضبوط اور مؤثر راستہ فراہم کرتی ہے۔
***
Share this content:


