تبصرۂ کتب: "آزادی” مصنف/اروندھتی رائے۔۔۔ فرحان طارق

یوں تو ہر شخص کے ہاں آزادی کا مفہوم اس پر عائد پابندیوں، قید کی جانے والی رائے، نظریات یا زبان بندی سے جڑا ہوتا ہے، جن سے وہ نجات پانا چاہتا ہے تاکہ وہ کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کر سکے۔ مگر اس لفظ کی گونج دہائیوں سے جموں و کشمیر میں سنائی دے رہی ہے۔

اروندھتی رائے کی یہ کتاب ’’آزادی‘‘ نو ابواب پر مشتمل ہے، جن میں آزادی، فاشزم اور فکشن کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔ اس کتاب میں اروندھتی کے 2018 سے 2020 کے دوران لکھے گئے مضامین شامل ہیں۔ ایک قاری کے لیے یہ کتاب ابتدا میں بورنگ محسوس ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ مضامین ایک دوسرے کے تسلسل میں نہیں ہیں۔ اگر ایک باب میں کسی موضوع پر بات ہو رہی ہے تو ضروری نہیں کہ اگلے باب میں بھی وہی تسلسل برقرار رہے۔

کتاب کا پہلا باب زبان کے گرد گھومتا ہے، جس میں ایک رپورٹر اروندھتی سے سوال کرتا ہے کہ آپ اپنی مادری زبان میں کیوں نہیں لکھتیں؟ اس کے جواب میں وہ لکھتی ہیں کہ میرا انگریزی میں لکھنا برطانیہ کو خراجِ تحسین پیش کرنا نہیں، بلکہ موجودہ حالات میں جو زبان دستیاب ہے اس کے ذریعے برطانوی ورثے پر تنقید کرنا ہے۔ اروندھتی کہتی ہیں کہ اگر انڈیا ایک براعظم ہوتا تو اس کے 728 ممالک ہوتے، یعنی جتنی اس کی زبانیں ہیں۔ یاد رہے کہ جب ہندوستان برطانیہ کی نوآبادی تھا تو انگریزوں نے انگریزی زبان زبردستی ہندوستانیوں پر مسلط کی، جسے چاہتے یا نہ چاہتے انہیں سیکھنا پڑا۔

’’ایک خطرناک جمہوریت میں انتخابی موسم‘‘ کے عنوان سے دوسرے باب میں اروندھتی بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے انتخابات میں عوامی جذبات ابھارنے کے طریقۂ واردات کو بیان کرتی ہیں، جس میں پلوامہ سے بالا کوٹ تک کے واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اروندھتی کہتی ہیں کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کو تین کوس دور گائے کا گوشت نظر آ جاتا ہے، مگر پلوامہ سے قبل 350 ٹن آر ڈی ایکس نظر نہیں آیا۔ اروندھتی رائے بتاتی ہیں کہ برطانوی فارمولا ’’Divide and Rule‘‘ تھا، جبکہ بی جے پی کا فارمولا ’’Divert and Rule‘‘ ہے۔

اروندھتی رائے کشمیر میں مودی سرکار کی جانب سے جاری جارحیت کو اپنی اس کتاب میں زیرِ بحث لاتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بناتی ہیں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ کس طرح مودی سرکار نے کشمیریوں کو ایک پنجرے میں بند کر رکھا ہے۔ دو ہزار انیس کے بعد وادی کی حالتِ زار کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ انڈیا کشمیر کو اپنا حصہ نہیں بنا رہا، بلکہ کشمیر ہندوستان کو کھا رہا ہے۔
مزید برآں اروندھتی رائے شہریت ترمیمی بل کو بھی کتاب کا حصہ بناتی ہیں اور وضاحت کرتی ہیں کہ کس طرح بی جے پی نے اس بل کے ذریعے مسلمانوں کو غیر ہندوستانی ثابت کرنے کی کوشش کی۔ یہاں وہ نعرہ ’’مسلمانوں کا ایک ہی ستھان، پاکستان‘‘ کا حوالہ دیتی ہیں، جو مودی سرکار کی سوچ کی نمایاں عکاسی کرتا ہے۔

اس کے علاوہ اروندھتی رائے آسام کی تاریخ بیان کرتی ہیں کہ 1837 میں انگریزوں نے آسام اور بنگال کو ملا کر بنگالی کو قومی زبان کا درجہ دے دیا۔ بعد ازاں جب برطانوی حکومت کو علم ہوا کہ یہ سرزمین چائے کی کاشت کے لیے موزوں ہے تو انہوں نے بنگالیوں کو بطور ورک فورس آسام منتقل کرنا شروع کر دیا۔ تقسیمِ ہند کے وقت آسام کے مقامی لوگ سراپا احتجاج بن گئے کہ بنگالیوں کو یہاں سے نکالا جائے۔ پھر 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کے دوران بھی بڑی تعداد میں بنگالی آسام ہجرت کر گئے، جس کے نتیجے میں این آر سی کا مسئلہ پیدا ہوا اور آر ایس ایس و بی جے پی کو مسلمانوں کے خلاف ایک نیا ہتھیار میسر آ گیا۔

اروندھتی رائے کہتی ہیں کہ جس طرح مودی سرکار کشمیر میں بزورِ طاقت کشمیریوں کا استحصال کر رہی ہے، اسی طرح این آر سی کو آسام میں مسلمانوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ آسام میں مسلمان این آر سی کے حصول کے لیے جدوجہد میں مصروف ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم ہندوستانی ہیں، مگر مودی سرکار کہتی ہے کہ نہیں، آپ بنگالی ہیں۔ اس کے برعکس تقریباً سات ملین کشمیریوں کو مودی سرکار زبردستی ہندوستانی بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہاں مودی سرکار کا طرزِ حکومت یہ واضح کرتا ہے کہ اس کی کشمیر میں لڑائی کشمیری عوام کے لیے نہیں بلکہ کشمیر کی سرزمین کے لیے ہے۔

اروندھتی رائے اپنی کتاب میں کشمیر میں تعینات ایک فوجی افسر امریک سنگھ کا ذکر بھی کرتی ہیں، جس نے اپنی سروس کے دوران کشمیری عوام پر ظلم کی انتہا کر دی، جس کے باعث اسے ’’بوچر آف کشمیر‘‘ کہا جاتا تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد امریک سنگھ امریکہ منتقل ہو گیا، مگر ایک روز وہ اپنے فلیٹ میں مردہ پایا گیا۔ اس نے خودکشی کر لی تھی۔ دورانِ تفتیش پولیس نے اس کے قریبی لوگوں کو حراست میں لیا، جو زیادہ تر کشمیری کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے امریک کو قتل نہیں کیا، ہم صرف روز اس کے سامنے کھڑے ہو کر اسے یہ احساس دلاتے تھے کہ تم نے ہمارے لوگوں کے ساتھ کیا کیا تھا۔ یہی نفسیاتی دباؤ بالآخر اسے موت کی طرف لے گیا۔

اروندھتی رائے کشمیر کے بارے میں ایک کہانی کے انداز میں بیان کرتی ہیں کہ دہلی میں انجم نامی ایک خواجہ سرا تھا، جس نے دہلی کے ایک قبرستان میں ’’جنت گیسٹ ہاؤس‘‘ کے نام سے ایک گیسٹ ہاؤس قائم کر رکھا تھا۔ اروندھتی کہتی ہیں کہ دہلی میں ایک قبرستان ہے جہاں جنت ہے، اور دنیا میں ایک اور جنت کشمیر ہے، جو آج ایک قبرستان میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ اروندھتی رائے کورونا وائرس کے دنوں کا احوال بھی بیان کرتی ہیں۔

Share this content: