بلوچ یکجہتی کمیٹی کی 2025 کی انسانی حقوق رپورٹ جاری، 1223 جبری گمشدگیاں اور 188 ماورائے عدالت قتل کے واقعات کا انکشاف

پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ بلوچستان میں سر گرم اور متحرک سیاسی تنظیم بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی )نے بلوچستان میں سال 2025 کے دوران انسانی حقوق کی صورتحال پر اپنی سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، فوجی آپریشنز اور بنیادی آزادیوں پر قدغنوں میں خطرناک حد تک اضافے کا انکشاف کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان کو عملاً ایک “میگا جیل” اور “میگا ڈیتھ سیل” میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

یہ رپورٹ بی وائی سی کی رہنما سمی دین بلوچ کی جانب سے پریس کانفرنس کے دوران پیش کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ 25 دسمبر کو بلوچ جینوسائڈ کے یادگاری دن کے موقع پر رپورٹ جاری کرنے کا مقصد گزشتہ دہائیوں میں ہونے والے مظالم کی یاد دہانی ہے۔ مقررین نے توتک میں دریافت ہونے والی اجتماعی قبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات کی نہ تحقیقات ہوئیں اور نہ ہی متاثرین کی شناخت ممکن بنائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران بلوچستان میں 1223 جبری گمشدگیوں کے کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 348 افراد کو قلیل مدت بعد رہا کیا گیا، جبکہ 832 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ ان میں 75 نابالغ اور 18 خواتین شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 43 افراد کو جبری گمشدگی کے بعد جعلی مقابلوں یا تشدد کے نتیجے میں قتل کیا گیا۔ جبری گمشدگیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ضلع کیچ رہا، جہاں 339 کیسز رپورٹ ہوئے۔

بی وائی سی کے مطابق سال 2025 میں بلوچستان میں ماورائے عدالت قتل کے 188 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں سے تقریباً 40 فیصد “کِل اینڈ ڈمپ” پالیسی کے تحت کیے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان واقعات میں طلبہ، مزدور، اساتذہ، دکاندار، سیاسی کارکن اور خواتین شامل ہیں، جبکہ کم از کم 15 بچے بھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے۔

رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور ریاستی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کی جانب سے بلوچستان میں تشدد ایک منظم پالیسی کے تحت کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد اختلاف رائے کو دبانا اور خوف کی فضا قائم رکھنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران روزانہ اوسطاً 169 فوجی آپریشنز کیے گئے، جن میں فضائی بمباری، ڈرون حملے، گھروں کی مسماری اور جبری نقل مکانی جیسے اقدامات شامل رہے۔

بی وائی سی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ سال بھر میں جبری گمشدگیوں کے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مل کر 122 سے زائد پرامن احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جن میں سے 39 احتجاجات کو ریاستی اداروں نے طاقت کے ذریعے کچلا۔ ان کارروائیوں کے دوران 400 سے زائد افراد گرفتار، درجنوں زخمی اور کم از کم چار افراد جاں بحق ہوئے۔

پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ بلوچستان میں انٹرنیٹ اور موبائل ڈیٹا کی بندش معمول بن چکی ہے، جس سے معلومات تک رسائی اور اظہارِ رائے کی آزادی شدید متاثر ہوئی۔ رپورٹ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ، تھری ایم پی او، سیکشن 144 اور فورتھ شیڈول کے استعمال کو سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظین کے خلاف “قانونی ہتھیار” قرار دیا گیا۔

بی وائی سی کی قیادت نے بتایا کہ تنظیم کے پانچ رہنما، بشمول مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، اس وقت جیل میں ہیں جبکہ دیگر کارکنان اور ان کے خاندانوں کو ہراسانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنظیم کے خلاف منظم بیانیہ سازی اور کریک ڈاؤن جاری ہے۔

آخر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے صحافیوں سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دنیا کے سامنے لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ مقررین نے کہا کہ خاموشی اختیار کرنا ممکن نہیں، کیونکہ یہ بلوچستان کے عوام کی بقا کا سوال ہے۔

Share this content: