پاکستانی فوج بلوچستان سے جتنی جلدی ممکن ہو نکل جائے اس میں اسی کی بھلائی ہے ، خان آف قلات

خان آف قلات سلیمان داؤد احمد زئی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ طویل جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے پاکستان کو اب سمجھنا چاہیے کہ وہ بلوچستان کو مزید اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا اب پوری بلوچ قوم مصلح جد وجہد کا حصہ بن چکے ہے یہ جنگ بلوچ قوم اپنے دفاع کے لیے جتنی طویل ہو لڑنے کے لیے تیار ہے مگر پاکستان اس ہاری ہوئی جنگ کو جتنا مزید لڑے گا اتنی ہی تباہی کی طرف بڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ بھلائی اسی میں ہے وہ اپنی فوج بلوچستان سے انخلاء کرے تاکہ اپنے معیشت کو سنبھالنے کے قابل بنے اور اپنی بچی ہو ہی ریاست سے ہاتھ دھونا نہ پڑے۔

خان قلات نے کہا کہ پاکستان کو برطانیہ اور امریکا سے سبق سیکھنی چاہیے کہ کس طرح انہیں گوریلا جنگوں میں شکست سے دوچار ہونا پڑا ۔ بلوچ عوام امن چاہتی ہے وہ اس وقت اپنی دفاع کر رہے اور ہمیشہ کرتے آہے ہے بلوچ قوم اب پوائنٹ آف نو رٹن پہ پہنچ چکا ہے لہذا اپنی معیشت پہ اور اپنے ملک پہ رحم کرے یہ لا حاصل جنگ میں پاکستان کے نصیب میں صرف بربادی لکھا ہے۔

یاد رہے کہ خان آف قلات بلوچستان کے تاریخی حکمران کا لقب ہے، جو قلات ریاست (جو اب بلوچستان کہلاتا ہے)کے سربراہ تھے۔ یہ ریاست 1955 تک ایک خودمختار یا نیم خودمختار خانیت کے طور پر موجود رہی۔ آخری خان، میر احمد یار خان احمدزئی کے ادوار میں پاکستانی فوج نے زبردستی ریاست پر حملہ کرکے 1948 میں اس قبضہ کرلیا جو اب پاکستان کے ایک صوبے طور پر جاناجاتا ہے۔

موجودہ خان آف قلات میر سلیمان دائود جان احمدزئی جو 1998 میں اپنے والد میر داوود جان کے انتقال کے بعد اس منصب پر فائز ہوئے۔ وہ اس وقت برطانیہ کے شہر کارڈف (ویلز) میں خودساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

Share this content: