مظفرآباد/ کاشگل نیوز
دنیا کے سب سے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کو آج 22 سال مکمل ہو گئے۔ 4 فروری 2004 کو ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک ہاسٹل روم سے شروع ہونے والا مارک زکربرگ کا یہ آئیڈیا آج عالمی سطح پر اربوں انسانوں کو آپس میں جوڑ چکا ہے۔
سنہ 2026 میں فیس بک کے ماہانہ فعال صارفین کی تعداد تقریباً 3.07 بلین تک پہنچ چکی ہے، جبکہ روزانہ فیس بک استعمال کرنے والوں کی تعداد 2.11 بلین کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ڈیجیٹل دنیا میں اب بھی فیس بک کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
گزشتہ پانچ برسوں میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی فیس بک سب سے زیادہ استعمال ہونے والا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق خطے میں بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال، عوامی حقوق کی تحریکوں اور سماجی مسائل پر آگاہی کے لیے فیس بک کو ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ مختلف سیاسی و سماجی گروہ فیس بک کے ذریعے نہ صرف اپنی سرگرمیوں کو منظم کر رہے ہیں بلکہ عوام تک براہِ راست اپنا مؤقف بھی پہنچا رہے ہیں۔
دوسری جانب ریاستی ادارے بھی فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اپنے بیانیے کے فروغ اور عوامی رائے کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا نے خطے میں معلومات کی ترسیل کو تیز تو کیا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ بیانیوں کی جنگ کو بھی نئی جہت دی ہے۔
22 برس بعد فیس بک صرف ایک سوشل نیٹ ورک نہیں رہا، بلکہ ایک ایسا طاقتور ڈیجیٹل پلیٹ فارم بن چکا ہے جو سیاسی، سماجی اور عوامی شعور کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کر ریا ہے۔
Share this content:


