جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو عوام نے اس بیانیہ کا متبادل سمجھ کر اس ریاستی بیانیہ کو مسترد کیا ہے کیونکہ عوام اس بیانیہ کے حقائق جان چکے ہیں کہ اس بیانیہ کے تحت اصل مسائل جو پاکستانی حکمرانوں اور مظفرآباد کے حکمرانوں کے پیدا کردہ ہیں ان سے عوام کی توجہ ہٹا کر 78 سال سری نگر میں مرکوز رکھی۔
انجمن زمان اعوان نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے آخری اجلاس میں دیے گئے بیانیے کی آسان الفاظ میں وضاحت کی ہے جس بیانیے کے تحت عوامی تحریک کا سارا رخ ریاستی بیانیے کی طرف موڑنے کی شدید غلطی کی گئی ہے۔
یہ کہنا بالکل درست نہیں ہے کہ انجم زمان اعوان کا موقف ذاتی حیثیت میں ہے جب دو مختلف بیانیے تضاد میں موجود ہیں پاکستان اور مظفرآباد کے حکمرانوں کا بیانیہ الگ ہے اور عوام کا بیانیہ الگ ہے تو ایسی صورت میں عوامی تحریک کی قیادت کرنے والی مرکزی کمیٹی کے ممبر کی ذاتی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔
ایسے حالات میں جب پاکستانی حکمران مذاکراتی کمیٹی میں موجود ہیں اور تین ہفتے پہلے ان حکمرانوں کی بد عہدی کا واضح عوامی اعلان کیا گیا اور مستقبل میں جدوجہد کو حتمی مرحلے میں داخل کرنے کا اعلان کیا گیا جس کے لیے ایک ماہ کا وقت لیا گیا ہے ایسے وقت میں ممبر کور کمیٹی یہ کہتا ہے کہ پاکستان ہمارا بڑا بھائی ہے اس کیساتھ مل کر سری نگر میں پرچم لہرائیں گے یہ دوہرا معیار ہے اور عوام کو گمراہ کرنے اور دھوکہ دینے کا عمل ہے جو عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔
دیگر ممبران کور کمیٹی کو اس پر اپنا واضح موقف دینا چاہیے ۔یہ کہہ دینا کہ یہ موقف ذاتی ہے ایک دوسرے کو تحفظ دینے کے علاؤہ کچھ نہیں، ممبر کور کمیٹی یہ کہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی بڑئے بھائی پاکستان جس کے حکمران عوام کیساتھ بار بار بد عہدی کر رہے ہیں، عوام کے استحصال کی بنیاد ہیں ان کیساتھ ملکر سری نگر میں پرچم لہرائیں گے یہ ذاتی موقف کیسے ہوا۔؟
پاکستانی حکمران اور آزاد جموں کشمیر کے عوام کے درمیان اس وقت واضح تضاد موجود ہے اور یہ تضاد مذاق نہیں ہے اس تضاد میں ہمارئے درجنوں شہری شہید ہو چکے ہیں اور سینکڑوں شہری زخمی ہیں جن پر پاکستانی حکمرانوں کی ایما پر پاکستانی فورسسز نے چڑھائی کی ہے۔ یہ قربانیاں عوام نے ایسے ہی نہیں دیں ان قربانیوں کے پیچھے واضح مقصد ہے اور وہ مقصد حق حکمرانی اور حق ملکیت کا حصول ہے، بیس کیمپ یا 24 اکتوبر کا ڈکلیریشن نہیں ہے ۔
تحریک کے تناظر میں ہم نے ہمیشہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو بہتر تجاویز دینے کی کوشش کی ہے لیکن آخری اجلاس میں یہ ثابت ہوا کہ عوام اور عوامی ایکشن کمیٹیوں کی تجاویز کو خاطر میں نہیں لایا جاتا، اس کے باوجود پھر سے تجویز دیں گے کہ بیس کیمپ اور 24 اکتوبر کے ڈیکلریشن کے ریاستی بیانیے سے باہر نکلیں فی الفور اجلاس کر کے اس پر سنجیدگی کے ساتھ دوبارہ بحث کریں اور اس فیصلے کو واپس لیں، عمل میں غلطی ہونا مسئلہ نہیں ہے لیکن غلطی پر ڈٹ جانا تباہی کا کارن بنتا ہے ۔
اس کیساتھ ساتھ عوامی ایکشن کمیٹیوں کے متحرک دوستوں کو بھی مرکزی سطح کا اجلاس طلب کر کے ساری صورتحال کو زیر بحث لانا چاہیے اور تحریکی مستقبل پر گفت و شنید کرنی چاہیے چونکہ سوال محض مطالبات کا نہیں ہے بلکہ سوال اب تحریکی بیانیے کا ہے جس پر کسی صورت کمپرومائز نہیں کیا جا سکتا۔ مرکزی سطح کا اجلاس کر کے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو تجاویز اور سفارشات دینا ضروری ہے۔
Share this content:


