جمہوری قوتوں کی کانفرنس: فوجی مداخلت کے خاتمے، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور آئینی ترامیم کے خاتمے کا مطالبہ

کراچی / کاشگل نیوز

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں جمہوری قوتوں کی کانفرنس میں شریک مختلف سیاسی جماعتوں، مزدور و کسان تنظیموں اور پروفیشنل اداروں کے قائدین نے متفقہ طور پر ملک کی موجودہ سیاسی، آئینی اور معاشی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعدد اہم مطالبات پیش کیے ہیں۔

کانفرنس کے اعلامیے کے مطابق بلوچستان کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے اس کے لیے ریاستی اداروں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ مسئلے کا حل جمہوری طریقوں اور بلوچستان کے عوام کی خواہشات کے مطابق نکالا جائے۔

شرکاء نے پاکستان میں جمہوری اداروں کو بااختیار بنانے کے لیے فوج کی سیاست اور ریاستی امور میں مداخلت کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کیا۔

اعلامیے میں ملک کو کثیرالقومی مملکت تسلیم کرتے ہوئے تمام قومی وحدتوں کو مساوی حیثیت، اپنے وسائل پر مکمل اختیار اور حقِ حکمرانی دینے پر زور دیا گیا۔

کانفرنس نے مطالبہ کیا کہ مرکز کے پاس صرف وہی اختیارات ہوں جن پر وفاقی اکائیوں کی منتخب اسمبلیاں دو تہائی اکثریت سے متفق ہوں، اور اختیارات کی منتقلی وفاق سے صوبوں کے بجائے صوبوں سے وفاق کو دی جائے۔ انتظامی بنیادوں پر قومی وحدتوں کو توڑ کر نئے صوبے بنانے کی کوششیں ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

اعلامیے میں وفاق کو سیکولر بنیادوں پر استوار کرنے، تمام شہریوں کو مساوی حقوق، مساوی حیثیت اور یکساں تحفظ فراہم کرنے پر زور دیا گیا۔ گزشتہ پانچ برسوں میں آئین میں کی گئی تمام تبدیلیوں، بالخصوص پیکا قوانین، 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم، مائننگ اینڈ منرل ایکٹ، گرین ٹورازم، ایس آئی ایف سی اور اس کے تحت قائم تمام اداروں، فیصلوں اور منصوبوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

کانفرنس نے کارپوریٹ فارمنگ کے لیے مخصوص کی گئی لاکھوں ایکڑ زمین کے نوٹیفکیشن واپس لینے اور یہ زمینیں مقامی بے زمین کسانوں میں تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا۔ شہریوں کو اغوا، لاپتہ اور گرفتار کرنے کا سلسلہ بند کرنے، تمام لاپتہ افراد کو منظرِ عام پر لانے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔

اعلامیے میں فورتھ شیڈول، ڈیتھ اسکواڈ اور سی ٹی ڈی کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔ ایمان مزاری، ہادی چٹھہ، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، علی وزیر، ادریس خٹک، ڈاکٹر یاسمین راشد، گلگت بلتستان کے شاکر قراقرمی اور نصرت حسین، کشمیر کے صحافی سہراب برکت سمیت ملک بھر میں گرفتار یا سزا یافتہ تمام سیاسی قیدیوں، ملازمین، محنت کشوں اور اساتذہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ سالار فیاض علی، شبیر میار اور دیگر پر قائم مقدمات واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

کانفرنس نے زرعی اصلاحات کے ذریعے اضافی اور سرکاری زمینیں مقامی بے زمین ہاریوں میں تقسیم کرنے، مہنگائی اور بیروزگاری کے خاتمے کے لیے ریاستی انتظامی اخراجات خصوصاً افسر شاہی کے بجٹ میں 50 فیصد کمی اور تعلیم و صحت کے بجٹ میں اضافے پر زور دیا۔ حکمرانوں کے صوابدیدی فنڈز ختم کرنے اور بجلی، گیس، پیٹرولیم مصنوعات سمیت توانائی کی قیمتوں میں کم از کم 50 فیصد کمی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق نجکاری اور آؤٹ سورسنگ کا عمل مکمل طور پر بند کیا جائے اور نجی کیے گئے اداروں کو ملکی ماہرین اور مقامی افرادی قوت کے ذریعے چلایا جائے۔ طلبہ یونینز کی بحالی، تمام صنعتی اداروں اور پبلک یوٹیلیٹیز میں مزدوروں کی نمائندہ یونینز کے انتخابات، اور تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

کانفرنس نے بلدیاتی انتخابات کرانے اور نچلی سطح تک مالی اختیارات منتقل کرنے کے لیے صوبائی حکومتوں کو پابند بنانے، زراعت کے تحفظ کے لیے سپورٹ پرائس مقرر کرنے اور خوراک پر سبسڈی دینے کا مطالبہ بھی کیا۔

اعلامیے میں گل پلازہ کے حالیہ واقعے سمیت ملک کے مختلف شہروں میں پیش آنے والے حادثات میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کو سخت سزا دینے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر حفاظتی انتظامات یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔

مزید برآں کانفرنس کے شرکاء نے ملک بھر کے پریس کلبز پر دباؤ ڈالنے اور صحافیوں کو ہراساں کرنے کی مبینہ کارروائیوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ریاستی ادارے اس طرزِ عمل کو فوری طور پر بند کریں۔

Share this content: