مقتول صحافی ارشد شریف کیس ازخود نوٹس نمٹا دیاگیا، اہلیہ کا فیصلے پر مایوسی کا اظہار

پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت نے کینیا میں قتل ہونے والے پاکستانی صحافی اور اینکر ارشد شریف کے ازخود نوٹس کیس کو نمٹاتے ہوئے فیصلہ جاری کر دیا ہے جس کے مطابق پاکستان اور کینیا کے درمیان میوچل لیگل اسسٹنس(ایم ایل اے) پر دستخط ہوچکے ہیں اور اس کے بعد اس وقت عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں۔

منگل کے روز وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس عامرفاروق کا تحریر کیا گیا فیصلہ جاری کیا۔

14 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل پر صحافتی برادری اور پاکستانیوں کا دکھ سمجھتے ہیں، ورثا کسی بھی شکایت پر داد رسی کے لیے متعلقہ عدالتوں سے رجوع کر سکتے ہیں۔‘

فیصلے کے مطابق تحقیقات کی نگرانی یا اسے مستقل زیرِ التوا رکھنا ملزم کے حقوق اور شفافیت کے منافی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستانی صحافی ارشد شریف 23 اکتوبر کی رات کینیا کے علاقے مگاڈی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہوئے تھے۔

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں بین الاقوامی فورمز پر جانے کا معاملہ حکومت کی صوابدید اور خارجہ پالیسی پر چھوڑ دیا ہے۔

ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ نے عدالتی فیصلے پر رد عمل میں اس جو مایوس کن قرار دیا ہے۔

ایکس پر لکھے پیغام میں جویریہ نے کہا کہ ’ارشد قتل کیس میں ناانصافی اور غم نے مجھے توڑ دیا ہے۔ حکومت کی بے عملی اور خاموشی کانوں کو بہرا کر دینے والی ہے۔‘

جویریہ کے مطابق ’مجھے ذاتی حیثیت میں کینیا کی عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔ آج عدالت کے فیصلے نے مجھے شدید مایوس کیا۔‘

پوسٹ کے مطابق ’یہ مقدمہ پاکستان میں صحافتی آزادی کا امتحان تھا اور ایک ایسے شہری کے لیے انصاف حاصل کرنے کی کوشش تھی جسے تین ملکوں میں نشانہ بنایا گیا اور بے رحمی سے قتل کیا گیا۔ واقعی یہ ایک سیاہ دن ہے۔‘

پاکستان کے صحافی اور اینکر ارشد شریف اکتوبر 2022 میں کینیا کے دارالحکومت نیروبی سے 110 کلومیٹر کے فاصلے پر فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

مقامی پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکاروں نے شناخت میں غلط فہمی پر اس گاڑی پر گولیاں چلائیں تھیں جس میں ارشد شریف سوار تھے۔

تاہم جولائی 2024 میں کینیا میں کاجیادو ہائیکورٹ نے پولیس اہلکاروں کی فائرنگ کو ’دانستہ، غیر ضروری اور غیر قانونی‘ قرار دیا تھا۔

عدالت نے پبلک پراسیکیوشن اور پولیسنگ اوورسائٹ اتھارٹی دونوں کو یہ حکم دیا تھا کہ ارشد شریف کی ہلاکت پر تحقیقات مکمل کی جائیں اور اس میں اگر پولیس اہلکار قصوروار ثابت ہوتے ہیں تو ان کو سزائیں دی جائیں۔

کینیا کی عدالت نے فیصلے میں لکھا تھا کہ پولیس کے جنرل سروس یونٹ کے دو اہلکاروں کی جانب سے ارشد شریف کو سر میں گولی مارنے کا فیصلہ ’دانستہ، غیر ضروری، غیر قانونی اور غیر آئینی تھا۔‘

کینیا کی عدالت کے فیصلے کے مطابق معروف پاکستانی صحافی ارشد شریف کی ہلاکت میں ملوث پولیس اہلکاروں نے نہ صرف انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی کی بلکہ انھوں نے اپنے قواعدوضوابط کو بھی نظرانداز کیا۔

عدالت نے حکومت کو ارشد شریف کی بیوہ اور درخواست گزار جویریہ صدیق کو ایک کروڑ کینین شیلینگ (77972.71 امریکی ڈالر) ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

Share this content: