پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے علاج کے معاملے میں کوہالہ پل احتجاجاً بند ہے جبکہ ارکان اسمبلی کا احتجاج چوتھے روز میں داخل ہوگیا ہے۔
عمران خان کے علاج کے مطالبے پر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان نے پاکستان کو پاکستان کے انتظام کشمیر سے ملانے والے رابطہ پل کو کوہالہ کے مقام پر اتوار کے روز دن دو بجے سے بند کر رکھا ہے۔
یہ مظاہرین پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی حدود میں ہیں تاہم دونوں جانب سے آنے جانے والی ٹریفک کا راستہ بند کر رکھا ہے۔
دونوں اطراف پر گاڑیوں کے طویل قطاریں ہیں۔ کئی لوگ پیدل مظاہرین کو کراس کر کے دوسری جانب جا رہے ہیں تاکہ اپنی منزل کو پہنچ سکیں تاہم بیشتر لوگ رش ہو جانے کی وجہ سے پھنس گئے ہیں۔
اس مقام پر پہلے سے بندش کی کال نہیں دی گئی تھی اس لیے کئی گاڑیاں اس وقت یہاں رش میں پھنسی ہوئی ہیں۔ یہاں مظاہرین پُرامن ہیں اور پیدل گزرنے والوں کو روکا نہیں جا رہا ہے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف اور ہم خیال سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کا احتجاج چوتھے روز میں داخل ہو گیا ہے۔
تحریک انصاف کا مطالبہ ہے کہ عمران خان کا علاج ان کے اہل خانہ کو اعتماد میں لے کر اور ان کے ذاتی معالج کی نگرانی میں کروایا جائے۔
جمعے کے روز سے شروع ہونے والے اس احتجاج میں دو درجن سے زائد ارکان پارلیمنٹ موجود ہیں جنھیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے تک ہی محدود کیا ہوا ہے۔
ان ارکان پارلیمنٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر سمیت قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف بھی شامل ہیں۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ ناصر عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ذیابیطس کے مریض ہیں اور انھوں نے 24 گھنٹے سے کچھ نہیں کھایا۔
انھوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کے اہلکار باہر سے کھانے پینے کی اشیا اندر نہیں لانے دے رہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود کیفے ٹیریا کے سٹاف کو بھی چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے کیونکہ کیفے ٹیریا میں نہ تو سٹاف ہے اور نہ ہی کھانے پینے کی چیزیں۔
پی ٹی ائی کے سینیٹر عون عباس کا کہنا تھا کہ ارکان پارلیمنٹ کے پاس جو بسکٹ وغیرہ پڑے تھے وہ بھی ختم ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پارلیمنٹ ہاؤس کو دونوں اطراف سے گھیرے میں لے رکھا ہے اور پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف جانے والے تمام راستے بند کر دیے ہیں۔
ڈیوٹی پر جانے والے قومی اسمبلی اور سینیٹ سیکرٹریٹ ملازمین کے لیے ایک چھوٹا دروازہ کھولا گیا ہے اور جامہ تلاشی کے بعد انھیں اندر جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق ملازمین کی جامہ تلاشی کے دوران ان کے موبائل فون بھی قبضے میں لیے گئے اور اس وقت واپس کیے گئے جب وہ پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت کے اندر داخل ہوئے۔
اسلام آباد کے خیبر پختونخوا ہاؤس کے باہر بھی سکیورٹی اہلکار بدستور تعینات ہیں اور اندر موجود وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
ادھر سابق وزیر اعظم عمران خان کی قانونی ٹیم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں عمران خان کی صحت کو بنیاد بنا کر القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ مقدمات میں دی جانے والی سزاؤں کے خلاف دائر کی گئی اپیلیں جلد سننے کی استدعا کی گئی ہے۔
Share this content:


