امن بورڈ کے رُکن ممالک نے غزہ استحکام فورس کے لیے ’ہزاروں اہلکار‘ فراہم کرنے کاعہد کیا، صدر ٹرمپ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے 16 فروری کو واشنگٹن میں ہونے والے غزہ امن بورڈ کے اجلاس میں وہ اعلان کریں گے کہ رُکن ممالک نے غزہ میں انسانی امداد اور تعمیر نو کی کوششوں کے لیے پانچ ارب ڈالر سے زیادہ دینے کا وعدہ کیا ہے جبکہ بین الاقوامی استحکام فورس اور مقامی پولیس کے لیے ہزاروں اہلکار فراہم کرنے کا بھی عہد کیا ہے۔

یہ بات صدر ٹرمپ نے سماجی رابطوں کے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کی ہے۔

امن بورڈ امریکی صدر کے اس منصوبے کا حصہ ہے جو غزہ میں تنازع کے مستقل خاتمے کے لیے انھوں نے پیش کیا ہے۔ پاکستان کے علاوہ مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب او قطر بھی اس ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہیں۔

16 فروری کو واشنگٹن میں ہونے والے امن بورڈ کے اجلاس میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف بھی شریک ہوں گے۔ یہ امن بورڈ غزہ میں ٹیکنوکریٹس پر مبنی نئی فلسطینی حکومت اور جنگ کے بعد تعمیر نو کی نگرانی کرے گا۔

اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی جانب سے امن بورڈ کو ایک بین الاقوامی استحکام فورس بنانے کا اختیار حاصل ہے۔ ایسی فورس جو غزہ کے سرحدی علاقوں کو محفوظ بنائے اور حماس کو غیر مسلح کرنے کے ساتھ ساتھ اس علاقے کو غیر فوجی بھی بنائے۔

اس امن فورس کے لیے انڈونیشیا غزہ میں آٹھ ہزار تک کی تعداد میں فوجی تعینات کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔

ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امن بورڈ لا محدود صلاحیت رکھتا ہے اور تاریخ میں سب سے زیادہ نتیجہ خیز بین الاقوامی ادارہ ثابت ہو گا۔

صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ گذشتہ اکتوبر میں امن بورڈ نے غزہ میں مستقل امن کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کیا، جسے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی متفقہ طور پر منظور کیا۔ اور اس کے فوراً بعد امن بورڈ نے ریکارڈ وقت میں انسانی امداد فراہم کی اور تمام زندہ و ہلاک ہونے والے یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنایا۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’اس منصوبے کی ایک اہم شرط یہ ہے کہ حماس فوری اور مکمل غیر عسکریت پسندی کے اپنے وعدے پر قائم رہے۔‘

صدر ٹرمپ نے زور دیا کہ امن بورڈ تاریخ کا سب سے مؤثر بین الاقوامی ادارہ ثابت ہو گا اور بطور چیئرمین اس میں خدمات سرانجام دینا اُن کے لیے اعزاز کی بات ہے۔

Share this content: