سابق شاہ ایران کے جلاوطن بیٹے کی کال پر ایران کے خلاف متعدد ممالک میں مظاہرے

دنیا بھر میں لاکھوں افراد نے ایرانی حکومت کے خلاف مظاہروں میں شرکت کی ہے۔ یہ مظاہرے سابق شاہ ایران کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی کی جانب سے ’گلوبل ڈے آف ایکشن‘ کی نسبت سے دی گئی کال پر منعقد ہوئے۔

میونخ میں اندازاً ڈھائی لاکھ افراد سے خطاب کرتے ہوئے رضا پہلوی نے حالیہ مظاہروں پر حکومتی کریک ڈاؤن کی مذمت کی اور حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ سنیچر کے روز میونخ، لاس اینجلس اور ٹورنٹو میں سب سے بڑے اجتماعات ہوئے، جبکہ تل ابیب، لزبن، سڈنی اور لندن سمیت دیگر شہروں میں بھی مظاہرے کیے گئے۔

ان مظاہروں میں شریک افراد نے ایران میں بڑھتی مہنگائی اور حکومتی جبر کے خلاف آواز بلند کی۔ انسانی حقوق کے امریکی ادارے ھرانا کے مطابق اب تک 6,872 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 150 سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔

ایرانی حکام نے کم از کم 3,000 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ ان میں کچھ سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔

لاس اینجلس میں رضا پہلوی کی بیٹی نور پہلوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام ’اس اسلامی حکومت سے آزادی کے اتنے قریب پہلے کبھی نہیں آئے۔‘ انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ ایران کی قیادت کے ساتھ جاری جوہری مذاکرات ختم کیے جائیں۔

ٹورنٹو میں تقریباً ساڑھے تین لاکھ افراد نے مظاہرے میں شرکت کی اور کہا کہ وہ ایران میں موجود اپنے دوستوں اور اہلِ خانہ کی آواز بننے کے لیے باہر نکلے ہیں۔

ایران میں مظاہرے 28 دسمبر کو شروع ہوئے، جو ابتدا میں معاشی بحران کے خلاف تھے لیکن جلد ہی حکومت مخالف تحریک میں بدل گئے۔ یہ مظاہرے ملک کے تمام صوبوں کے 100 سے زائد شہروں اور قصبوں تک پھیل گئے۔

کئی مظاہرین نے رضا پہلوی کے حق میں نعرے بلند کیے اور ان کی سیاست میں واپسی کا مطالبہ کیا۔ رضا پہلوی، جو 1979 کے انقلاب کے وقت 18 برس کے تھے، تقریباً 50 سال بعد ایک بار پھر ایران کے مستقبل میں کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Share this content: