پاکستانی ارکانِ پارلیمنٹ سمیت 55 افراد پر دہشت گردی کا مقدمہ درج

پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد کی پولیس نے ریڈ زون میں مظاہرہ کرنے اور پولیس اہلکاروں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے الزام میں پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے سات ارکان پارلیمنٹ سمیت 55 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

یہ مقدمہ پولیس اہلکار کی مدعیت میں تھانہ سیکرٹریٹ میں درج کیا گیا ہے اور یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔

تھانہ سنگ جانی کے ایس ایچ او محمد اسحاق کی مدعیت میں درج ہونے والے مقدمے میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ 15 فروری کو پارلیمنٹ لاجز اور پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے ڈیوٹی دے رہے تھے جہاں پاکستان تحریک انصاف سے متعلق رکھنے والے سات ارکان پارلیمنٹ دیگر کارکنوں کے ساتھ مظاہرہ کر رہے تھے۔

درخواست گزار کے بقول پولیس نے انھیں ایسا کرنے سے منع کیا تو مظاہرین نے نہ صرف انھیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں بلکہ کہا کہ اگر کسی نے انھیں روکنے کی کوشش کی تو وہ یہاں سے زندہ بچ کر نہیں جائے گا۔

اس مقدمے میں کہا گیا گیا ہے کہ مظاہرین کی تعداد 50-55 کے قریب تھی اور ان میں سے متعدد افراد کے ہاتھوں میں آتشیں اسلحہ سمیت ڈنڈے اور دیگر سامان بھی موجود تھا۔

دوسری جانب پولیس نے پارلیمنٹ ہاوس کے باہر مظاہرہ کرنے کے الزام میں گرفتار ہونے والے چار افراد کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرکے ان کا پانچ دن کا جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کر لیا ہے۔

Share this content: