معاہدۂ کراچی ایک ہتھیار ۔۔۔ خواجہ کاشف میر

آزادکشمیر پولیس کے ساتھ بڑی ناانصافی

پاکستان نے معاہدۂ کراچی 1949 کی آڑ میں ایک BS-20 کے پنجاب میں تعینات پولیس افسر کو آزادکشمیر کے آٹھ سینئر پولیس افسران پر بٹھا کر آئی جی پولیس تعینات کر دیا۔

نوٹیفکیشن Government of Pakistan نے جاری کیا اور آزادکشمیر کی پوری پولیس فورس میں شدید بے چینی پھیلا دی۔اصل مسئلہ ریاستی افسران کی تذلیل ہے کیونکہ آزادکشمیر میں موجود گریڈ 21 کے افسر، سینئر ڈی آئی جیز، دہائیوں کا تجربہ رکھنے والے پولیس کمانڈرز، سب کو نظرانداز کر کے اسلام آباد سے ’’درآمد شدہ‘‘ افسر کو سربراہ بنا دیا گیا۔

یہ صرف ایک تعیناتی نہیں، بلکہ آزادکشمیر کی پولیس سروس کی سینارٹی، میرٹ اور ادارہ جاتی خودمختاری کی کھلی بے حرمتی ہے۔

معاہدۂ کراچی کی شق کا غلط استعمال ، 1949 کے اس معاہدے کو بنیاد بنا کر کیا جا رہا ہے۔

اس معاہدے کی وجہ سے اہم انتظامی اختیارات پاکستان کو دیے گئے، آزادکشمیر کے اعلیٰ عہدوں چیف جسٹس سپعیم۔کورٹ، چیف جسٹس ہائی کورٹ، چیف الیکشن کمشنر ، چیف سیکرٹری ، آئی جی ، سیکرٹری فنانس ، سیکرٹری صحت ، اکاؤنٹنٹ جنرل، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ڈیویلپمنٹ کی منظوری اسلام آباد کے پاس رکھی گئی اور Gilgit-Baltistan کا مکمل کنٹرول پاکستان کے سپرد کر دیا گیا۔ آج اسی متنازع معاہدے کی شق کو بنیاد بنا کر آزادکشمیر کے اہل، سینئر اور تجربہ کار افسران کو پیچھے دھکیل دیا گیا۔

سوال یہ نہیں کہ کس کو آئی جی بنایا گیا۔۔۔اصل سوال یہ ہے کہ آزادکشمیر کے اپنے پولیس افسران کو یہ حق کیوں نہیں دیا جا رہا؟

کیا وہ نااہل ہیں؟۔۔یا ان پر اعتماد نہیں؟
یا پھر 1949 کی اس دستاویز کو ہر بار صرف اسی لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ ریاستی اداروں کو اپنے ہی گھروں میں کمزور رکھا جائے؟

آزادکشمیر میں اب وہ وقت نہیں کہ سینارٹی روند دی جائے۔ تجربہ کار افسران کی تضحیک کی جائے اور عوام و اداروں پر متنازع فیصلے مسلط کیے جائیں۔

یہ معاملہ صرف ایک پوسٹنگ نہیں، یہ آزادکشمیر کے انتظامی ڈھانچے اور پولیس کے ادارہ جاتی وقار پر سیدھا حملہ ہے۔

اس لیے آزادکشمیر میں ایک سوچ بن رہی ہے کہ 75 سال قبل کیے گئے اس معاہدے کو ختم یا اس میں مناسب تبدیلی کیوں نہیں کی جا سکتی؟؟

٭٭٭

Share this content: