دوسری قسط
یہ وقت ابہام کا نہیں، وضاحت کا ہے۔یہ وقت گروہی حصاروں میں بند رہنے کا نہیں، اجتماعی فیصلے کا ہےمقبول بٹ کو اپنا راہبر ماننے والی سب سے بڑی تنظیم اگر کوئی ہے تو وہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ ہے۔ یہی وہ پلیٹ فارم تھا جس نے مقبول بٹ کے نظریات کو تنظیمی شکل دی، اور یہی وہ نام ہے جس کے ساتھ سب سے بڑی نظریاتی وابستگی جڑی رہی۔اور اس حقیقت کو دیگر تمام آزادی پسند تنظیمیں تسلیم کرتی ہیں۔مگر آج تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہی تنظیم ٹولیوں اور گروپوں میں تقسیم ہے۔یہ سوال اب مؤخر نہیں کیا جا سکتا کہ جب نظریہ ایک ہے، رہنما ایک ہے، دعویٰ ایک ہے تو پلیٹ فارم کئی کیوں ہیں؟
ہر گروہ خود کو تنظیم کا اصل وارث قرار دیتا ہے۔ ہر دھڑا خود کو مکمل تنظیم کہتا ہے۔ مگر زمینی سچائی یہ ہے کہ تقسیم شدہ قوت کبھی فیصلہ کن سیاسی طاقت نہیں بنتی۔ ٹولیوں میں بٹی ہوئی تنظیم، خواہ کتنے ہی بلند دعوے کرے، تحریک کا متبادل نہیں بن سکتی۔یہاں مسئلہ نظریاتی اختلاف کا نہیں، تنظیمی انتشار کا ہے۔
اختلاف ہر سیاسی جماعت میں ہوتا ہے، مگر بالغ تنظیمیں اختلاف کے باوجود ایک مرکزی ڈھانچے کے تحت کام کرتی ہیں۔ اصل بحران اختلاف نہیں بلکہ متوازی قیادتوں، متوازی دعوؤں اور مستقل گروہی صف بندی کا ہے۔کارکنان کی توانائی بکھر رہی ہے۔ایک ہی نظریے کے ماننے والے مختلف دائروں میں گھوم رہے ہیں۔ہر گروہ اپنی پریس فیلڈ، اپنی تشہیر اور اپنی شناخت کے تحفظ میں مصروف ہے مگر اجتماعی شناخت کمزور ہو رہی ہے۔یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ تعداد طاقت نہیں بنتی، اتحاد طاقت بنتا ہے۔اور اتحاد صرف تقریروں سے نہیں آتا، عملی فیصلوں سے آتا ہے۔
اگر واقعی مقبول بٹ کے افکار اجتماعی آزادی اور قومی خودمختاری کی بنیاد پر تھے، تو اس فکر کا پہلا تقاضا یہی ہے کہ تنظیم ایک ہو۔ نظریہ تقسیم کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ نظریہ اس وقت اثر انداز ہوتا ہے جب اس کے ماننے والے ایک مرکز کے تحت منظم ہوں۔آج جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے تمام گروپوں کو یہ سنجیدہ سوال خود سے پوچھنا ہوگا کہ کیا گروہی قیادت مقصد سے بڑی ہو چکی ہے؟کیا شخصی حلقہ نظریاتی دائرے پر غالب آ چکا ہے؟اور یہ کہ کارکنان کی قربانیاں گروہی سیاست کی نذر کیوں ہو رہی ہیں؟اور کارکنان کو یہ سوچنا ہو گا بلکہ قیادت سے سوال کرنا ہو گا کہ آخر کارکنان کو تقسیم کا ایندھن کیوں بنایا جارہا ہے۔
اگر اتحاد کے راستے میں رکاوٹیں برقرار رہتی ہیں تو اس کا نقصان کسی ایک گروہ کو نہیں بلکہ پوری تحریک کو ہوگا۔ دنیا منتشر آوازوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔ بین الاقوامی سطح پر وہی قوت معتبر سمجھی جاتی ہے جو منظم، متحد اور واضح ہو۔کارکنان کو بھی اب خاموش تماشائی نہیں رہنا چاہیے۔
انہیں یہ مطالبہ کرنا ہوگا کہ تمام گروہ ایک میز پر آئیں، آئینی بنیادوں، تنظیمی ڈھانچے اور قیادت کے طریقۂ کار پر سنجیدہ مکالمہ کریں، اور ایک مشترکہ فریم ورک طے کریں۔ اتحاد کسی ایک گروہ کی فتح نہیں ہوگا یہ پوری تحریک کی بقا ہوگی۔یہ وقت الزام تراشی کا نہیں، فیصلہ کرنے کا ہے۔یا تو گروہی خول برقرار رہیں گے اور تنظیم مزید کمزور ہوگی،یا سب دھڑے اجتماعی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے ایک مرکزی پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں گے۔تاریخ منتشر صفوں کو نہیں، متحد قوتوں کو یاد رکھتی ہے۔مقبول بٹ کا نظریہ واضح ہے اجتماعی جدوجہد، منظم سیاست اور مشترکہ سمت۔
اب فیصلہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے گروپوں کو کرنا ہے کہ وہ اس نظریاتی ورثے کو بکھرا ہوا رکھنا چاہتے ہیں یا اسے ایک متحد قوت میں ڈھال کر تاریخ کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔اتحاد ہی پہلی سیڑھی ہے۔اور یہ سیڑھی چڑھے بغیر منزل کا دعویٰ محض دعویٰ ہی رہے گا۔
جاری ہے۔
٭٭٭
Share this content:


