صحافی مطیع اللہ جان پر فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ

مطیع اللہ جان کے خلاف درج مبینہ جعلی ایف آئی آر میں فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے دہشت گردی اور منشیات کے مقدمے میں دائرہ اختیار سے متعلق درخواست مسترد کرتے ہوئے کل بروز جمعرات فردِ جرم عائد کرنے کا حکم جاری کیا۔

مطیع اللہ جان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ حکومت ایک “جعلی کیس” کو آگے بڑھا رہی ہے، جو ان کے بقول صحافیوں اور صحافت پر کھلا حملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں 27 نومبر کو صحافی ثاقب بشیر کے ہمراہ اسلام آباد کے پمز ہسپتال سے لاپتہ کیا گیا تھا، جس کے بعد ان کے خلاف یہ ایف آئی آر درج کی گئی۔

مطیع اللہ جان کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف دہشت گردی اور منشیات جیسے سنگین الزامات بے بنیاد ہیں اور اس مقدمے کا مقصد انہیں اور دیگر صحافیوں کو دباؤ میں لانا ہے۔

دوسری جانب حکومتی مؤقف تاحال سامنے نہیں آ سکا۔ عدالت کی جانب سے فردِ جرم عائد کیے جانے کے بعد کیس کی باقاعدہ سماعت کا آغاز ہوگا، جس میں استغاثہ اور دفاع اپنے اپنے دلائل پیش کریں گے۔

یہ معاملہ ملک میں صحافتی آزادی اور عدالتی کارروائی کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔

Share this content: