موجودہ مالی سال کے پہلے سات ماہ میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ ایک ارب سات کروڑ ڈالر خسارے میں رہا، جبکہ گذشتہ سال اسی عرصے میں 56 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سرپلس تھا۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جنوری کے مہینے میں بہتری دیکھنے میں آئی۔ جنوری میں کرنٹ اکاؤنٹ 12 کروڑ 10 لاکھ ڈالر سرپلس رہا، جبکہ دسمبر میں 26 کروڑ 50 لاکھ ڈالر خسارہ تھا۔ جنوری 2025 میں یہ خسارہ 39 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تھا۔
مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ پورے سال میں کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ معیشت کے مجموعی حجم کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہ سکتا ہے۔
توقع ہے کہ جون 2026 تک زرِ مبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے، جو تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہوں گے۔
اعداد و شمار کے مطابق حقیقی مؤثر شرحِ تبادلہ جنوری میں کم ہو کر 103.3 رہ گئی، جو دسمبر میں 103.6 تھی۔
Share this content:


