پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کی عوامی تحریک جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے مختلف اہم امور پر تشویش کا اظہار اور مطالبات پیش کیے ہیں۔
اعلامیے کے مطابق جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے باغ ملوٹ سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر فریحہ کی فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی لاہور میں ناگہانی موت پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی نے واقعے کی صاف و شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ تعلیم سمیت دیگر سرکاری آسامیوں پر بھرتیاں صرف میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں اور اس کے لیے نیشنل ٹیسٹنگ سروس پاکستان اور پبلک سروس کمیشن آزاد کشمیر کے ذریعے شفاف طریقہ کار اپنایا جائے۔ ایکشن کمیٹی نے خالی آسامیوں پر تھرڈ پارٹی فارمولے کو مسترد کرتے ہوئے اسے میرٹ کے خلاف قرار دیا۔
کمیٹی نے صحافی سہراب برکت کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی اور اظہارِ رائے کی آزادی کے تحفظ پر زور دیا۔
اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ ای سی ایل اور پی سی ایل فہرستیں منظرِ عام پر لائی جائیں اور شہریوں کو بلاجواز زیرِ نگرانی رکھنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے آزاد کشمیر کے عوام کو ناقص اور غیر معیاری آٹا فراہم کیے جانے پر بھی شدید احتجاج کیا اور کہا کہ فوری طور پر معیاری آٹے کی فراہمی اور مکمل کوٹہ یقینی بنایا جائے۔
صحت کارڈ کے حوالے سے کمیٹی نے حکومت آزاد کشمیر اور اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن سے مطالبہ کیا کہ ایکشن کمیٹی کے تحفظات دور کیے جائیں تاکہ عوام کو بہتر اور مؤثر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ اعلامیے میں ہیلتھ ورکرز کے جائز مطالبات کی مکمل حمایت کا بھی اعلان کیا گیا۔
آخر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے کہا کہ 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ، جسے حکومت پاکستان اور حکومت آزاد کشمیر کے مشترکہ معاہدے کے تحت تسلیم کیا جا چکا ہے، پر عمل درآمد کے لیے 9 جون کو فیصلہ کن کال دی جائے گی۔ کال کی حتمی تفصیلات ایکشن کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں جاری کی جائیں۔
Share this content:


