پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت پر مذاکراتی عمل میں غیر سنجیدگی کا الزام عائد کیا اور خبردار کیا ہے کہ اگر 31 مئی تک مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو 9 جون کو بھرپور عوامی احتجاج کیا جائے گا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کور ممبر جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی راجہ امجد نے کہا کہ 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ تسلیم کیے جانے کا معاہدہ ریکارڈ پر موجود ہے، تاہم حکومت اس پر عملدرآمد سے گریز کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 12 نشستوں کا مسئلہ کشمیر کاز سے متعلق نہیں بلکہ عوامی نمائندگی اور ریاستی وسائل کا معاملہ ہے، جبکہ عوامی رائے بھی ان کے مؤقف کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے مذاکراتی عمل میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا اور اگر 31 مئی تک مطالبات پورے نہ کیے گئے تو 9 جون کو عوامی طاقت سڑکوں پر ہوگی۔ راجہ امجد کے مطابق قانون عوام کی مرضی سے بنتا ہے اور عوام 9 جون کو اپنی قوت کا عملی مظاہرہ کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ 12 نشستوں کا بوجھ ریاست مزید برداشت نہیں کر سکتی، اس لیے حکومت قانونی طریقہ کار کے تحت ان نشستوں کا خاتمہ کرے۔
اس موقع پر کور ممبر جیک شوکت نواز میر نے کہا کہ حکومت مذاکرات کے آخری وقت میں رابطے کرتی ہے لیکن طے شدہ معاملات پر عملدرآمد کے بجائے تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 12 نشستوں کے خاتمے کے معاملے پر مختلف عوامی اجتماعات میں مکمل اتفاقِ رائے سامنے آیا ہے اور عوام اب اس مسئلے پر باشعور ہو چکی ہے۔
شوکت نواز میر نے کہا کہ وفاقی وزیر امیر مقام کے متنازع ہونے کے بعد ان کی موجودگی میں مذاکرات سے انکار کیا گیا۔ ان کے مطابق حکومت چند خاندانوں اور اداروں کے مفادات کے لیے 12 نشستیں برقرار رکھنا چاہتی ہے، تاہم عوام اب مزید یہ بوجھ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ 9 جون کا احتجاج ماضی کے تمام عوامی اجتماعات کا ریکارڈ توڑ دے گا۔ اپنی گفتگو میں انہوں نے French Revolution کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح انقلابِ فرانس میں عوام نے بادشاہت کو مسترد کیا تھا، اسی طرح یہاں بھی عوامی رائے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون عوام کی مرضی سے بنتا ہے اور 12 نشستوں کے خاتمے کے لیے عوامی دباؤ فیصلہ کن ثابت ہوگا۔
Share this content:


