پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق افغان فورسز نے پاکستانی فوج کے خلاف جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، جس کے نتیجے میں دونوں جانب جھڑپیں جاری ہیں اور حالات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ننگرہار صوبے کے دور بابا ضلع میں متنازع سرحدی لائن کے قریب مچن نو کے علاقے میں افغان فورسز نے پاکستانی ملیشیا کی دو چوکیوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ اسی طرح ضلع گوشتہ کے علاقے انارگی میں تین مزید پوسٹوں پر قبضہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ کنڑ صوبے کے ناری ضلع کے ڈوکلام علاقے میں بھی افغان فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے دو چوکیوں پر قبضہ کر کے انہیں آگ لگا دی ہے۔ مجموعی طور پر سات پوسٹوں پر قبضے اور نذرِ آتش کیے جانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کے خلاف وسیع عسکری کارروائیوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحدی فورسز کی جانب سے پاکستانی فوجی مراکز اور تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ طالبان فورسز نے متعدد پاکستانی چیک پوسٹس کو تباہ کر دیا ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق طالبان فورسز نے پاکستانی فوج کی 15 چیک پوسٹوں پر قبضہ کر لیا ہے، حملوں میں کئی فوجی اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ متعدد کو زندہ گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
پاکستانی حکام کی جانب سے تاحال ان دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم باڑہ اور تیراہ کے علاقوں کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جھڑپوں کی آوازیں دور دور تک سنائی دے رہی ہیں، جس سے عوام میں خوف و ہراس بڑھ گیا ہے۔
یاد رہے کہ طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے چند روز قبل العربیہ انگلش کو دیے گئے ایک بیان میں کہا تھا کہ "پاکستان کی حالیہ فضائی حملوں کا عسکری جواب دیا جائے گا، لیکن اس کی تفصیلات خفیہ ہیں۔ پاکستان کو اپنے شرمناک اقدام کا جواب ملنا چاہیے۔”
Share this content:


