دیامر بھاشا ڈیم یا تہذیب کی تباہی؟۔۔۔ وحید حسن

سرمایہ دارانہ منصوبوں کے ہاتھوں مٹتی ہوئی ہزاروں سالہ انسانی تہذیب کی کہانی

گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں پتھروں پر نقش و نگار کی صورت میں موجود ہزاروں سالہ نوع انسان کا تاریخی ورثہ عنقریب دفن ہونے والا ہے، دیامر بھاشا ڈیم کی تکمیل کے بعد تقریباً 38 ہزار پتھر، جن پر جانوروں، انسانوں اور مختلف علامات کے قبل از تاریخ اور بعد از تاریخ خاکے موجود ہیں، مکمل طور پر زیرِ آب آ جائیں گے۔ واضح رہے کہ ان پتھروں پر موجود یہ نقوش نہ صرف بدھ مت اور ہندومت کے عہد کے ہیں بلکہ رائی کوٹ سے لے کر شتیال تک موجود ان پتھروں پر کی گئی نقش و نگار نیولیتھک انقلاب سے قبل یعنی پتھر کے زمانے کے اختتامی عہد کے بھی ہیں۔

ڈاکٹر جیسن نیلس کے مطابق ضلع دیامر میں موجود ان پتھروں پر نقش و نگاری اور نشانات کے علاوہ یہاں جنوبی ایشیا، ایران اور وسطی ایشیا کی قدیم زبانوں میں لکھائیاں بھی موجود ہیں جو کہ خروستی اور برہمی رسم الخط میں لکھی گئی ہیں۔

اب تک تقریباً 5 ہزار سے زائد پتھر، روڈ کی تعمیر اور مائننگ کے دوران مکمل طور پر منہدم کر دیے گئے ہیں، اور ڈیم کی تکمیل کے بعد کل 55 ہزار میں سے 38 ہزار پتھروں پر موجود نقش و نگاری، نشانات اور خطاطی کے ذریعے محفوظ تاریخ ہمیشہ کے لیے منہدم اور دفن ہو جائے گی۔

پاکستان کا حکمران طبقہ پہلے ہی دیامر بھاشا ڈیم کے منصوبے کو خوشحالی کا ضامن قرار دیتے ہوئے ترقی کا سراب بیجتا ہوا آیا ہے، لیکن عملی طور پر یہ منصوبہ ہماری صدیوں پرانی تاریخ اور تہذیب کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنے جا رہا ہے۔ جولائی 2025 میں دیامر بھاشا ڈیم کے منصوبے سے بجلی کا حصہ مکمل طور پر خارج کرنے کا عندیہ وفاقی وزیر اویس لغاری دے چکے ہیں، جس سے یہ بات اخذ کی جا سکتی ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل کا اب واحد مقصد صرف اور صرف ایک پانی کا تالاب کھڑا کرنا ہے، جس سے پنجاب میں موجود بڑے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے کارپوریٹ فارمز کو پانی فراہم کر کے سرمایہ دار طبقے کو نوازنا ہے۔

٭٭٭

Share this content: