پی ٹی آئی اور تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے رہنما اسد قیصر نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں سنیچر کے روز اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچنے سے روک دیا گیا، جس کے باعث گلگت بلتستان میں جاری انتخابی مہم کے سلسلے میں سکردو جانے والی ان کی پرواز چھوٹ گئی۔
مبینہ طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما جنید اکبر کو انتخابی مہم کے دوران گلگت بلتستان سے نکال دیے جانے کے بعد پیش آیا ہے کہ جو سات جون کو ہونے والے انتخابات کی انتخابی مہم کے لیے وہاں اپنی ٹیم کے ساھ موجود تھے۔
ٹی ٹی اے پی کے سیکریٹری جنرل اسد قیصر نے الزام عائد کیا کہ پنجاب پولیس نے انھیں اسلام آباد ایئرپورٹ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی اور ایئرپورٹ جانے والے راستے بند کر دیے۔
ایکس پر اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ ’پنجاب پولیس نے میری پرواز روانہ ہونے تک مجھے حراست میں رکھا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اس کارروائی کے نتیجے میں نہ صرف وہ اپنی پرواز سے محروم ہوئے بلکہ عام شہریوں کو بھی شدید مشکلات اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔‘
اسد قیصر نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹ قرار دیا، جبکہ حکام کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
تاہم گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان شبیر میر نے کہا ہے کہ یہ تاثر درست نہیں کہ نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی فون کال اٹینڈ نہیں کی۔
اپنے ایک بیان میں ترجمان نے بتایا کہ ’جب خیبر پختونخوا سے فون کال موصول ہوئی، اُس وقت نگران وزیر اعلیٰ کمر درد کے باعث ڈاکٹرز کے پاس اُن کا معائنہ چل رہا تھا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’جیسے ہی طبی معائنہ مکمل ہوا، نگران وزیر اعلیٰ نے فوری طور پر کال بیک کیا، تاہم اُس وقت خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ دستیاب نہیں تھے۔‘
شبیر میر نے واضح کیا کہ ’گلگت بلتستان میں کسی بھی سیاسی جماعت یا امیدوار کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جا رہا اور تمام سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کو یکساں مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔‘
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے دفتر سے جاری بیان میں پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر اور رکن قومی اسمبلی جنید اکبر خان اور دیگر پارلیمنٹرینز کی گلگت بلتستان میں گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
وزیرِ اعلی کے پی کا کہنا تھا کہ ’اگر ہمارے پارلیمنٹیرینز کو جلد رہا نہیں کیا گیا تو گلگت بلتستان کی کٹھ پتلی حکومت اور وہاں جعلی حکومت بنانے کے لیے سرگرم عناصر سے اپنے پارلیمینٹیرینز کے ساتھ ناروا سلوک کے بارے میں سوال کرنے کے لیے خود گلگت بلتستان جاؤں گا۔‘
انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ایسے رویے پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور ان اقدامات سے نفرتیں بڑھ رہی ہیں جبکہ اس قسم کے طرزِ عمل سے تقسیم پیدا ہو رہی ہے۔ جن کا کام عوامی مینڈیٹ کی حفاظت ہے، وہی ہمیشہ پاکستانیوں کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔‘
Share this content:


