اسرائیل اور امریکہ کا ایران پر حملہ، ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ

اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک ایسا حملہ شروع کرنے کا دعویٰ کیا ہے جسے وہ "پری ایمپٹو” یا "احتیاطاً پہلے حملہ” قرار دے رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے آج صبح ایک بیان میں پورے اسرائیل میں "خصوصی اور مستقل ہنگامی حالت” نافذ کرنے کا اعلان کیا۔

ایران کی سرکاری فارس نیوز ایجنسی کے مطابق تہران کے مرکز میں تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جنہوں نے دانشگاہ اسٹریٹ اور ریپبلک کے علاقے کو نشانہ بنایا۔

بی بی سی کو موصول ہونے والی تصاویر میں جمہوری اسکوائر اور حسن آباد اسکوائر پر دھوئیں کے بادل بلند ہوتے دکھائی دیے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق دھماکوں کی آوازیں صرف تہران تک محدود نہیں رہیں بلکہ قم، تبریز، کرمان شاہ، لرستان اور کرج سمیت کئی شہروں میں بھی دھماکوں کی تصدیق کی گئی ہے۔

ایران نے اپنی فضائی حدود کو اگلے نوٹس تک بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ اسرائیل نے بھی پہلے ہی اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹرتھ سوشل” پر آٹھ منٹ کی ویڈیو میں تصدیق کی ہے کہ ایران پر حملے میں امریکہ بھی شامل ہے۔

ان کے مطابق امریکی افواج نے ایران میں "اہم جنگی کارروائیاں” شروع کر دی ہیں اور بڑے پیمانے پر آپریشنز جاری ہیں۔

ایران کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ زخمیوں اور جانی نقصان سے متعلق حتمی اعداد و شمار بعد میں جاری کیے جائیں گے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے پہلے ہی ایران سے یورینیم کی افزودگی روکنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ایران کے موقف سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان بیانات کے بعد ایران پر امریکی حملے کے خدشات بڑھ گئے تھے اور کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کی تھی۔ تاہم عملی طور پر سب سے پہلے اسرائیل نے ایران پر میزائل حملے کیے، جس کے بعد امریکہ نے بھی شمولیت کی تصدیق کر دی۔

Share this content: