انسانی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ایک تلخ حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ جنگیں کبھی بھی پائیدار حل نہیں دے سکیں۔ وہ وقتی فتح، جغرافیائی تبدیلی یا سیاسی برتری تو دے سکتی ہیں، مگر امن، استحکام اور اجتماعی اطمینان پیدا نہیں کرتیں۔ طاقت کے زور پر مسلط کیا گیا سکوت دراصل خاموش بارود ہوتا ہے جو کسی بھی وقت دوبارہ بھڑک سکتا ہے۔
بیسویں صدی کی دو عالمی جنگیں اس حقیقت کی واضح مثال ہیں۔ پہلی عالمی جنگ نے یورپ کو کھنڈر بنا دیا، لاکھوں نوجوان قبروں میں اتر گئے، مگر پھر بھی اس کے بعد ہونے والا معاہدہ مستقل امن نہ لا سکا۔ نتیجتاً صرف دو دہائیوں بعد دوسری عالمی جنگ نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیا۔ اس جنگ نے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال تک انسانیت کو پہنچا دیا، مگر بالآخر دنیا کو سفارتی نظام اور عالمی اداروں کی طرف رجوع کرنا پڑا۔ یعنی بندوق کے بعد بھی بات چیت ہی آخری راستہ بنی۔
جنوبی ایشیا کا تناظر بھی مختلف نہیں۔ 1965 اور 1971 کی پاک بھارت جنگوں کے بعد بھی خطے کے بنیادی سیاسی تنازعات ختم نہ ہو سکے۔ جنگوں نے انسانی جانوں، وسائل اور باہمی اعتماد کو نقصان پہنچایا، جبکہ مسائل بالآخر سفارتی مکالمے اور سیاسی عمل کے ذریعے ہی زیرِ بحث آئے۔ اس سے یہی سبق ملتا ہے کہ جنگ مسئلے کو دباتی ہے، حل نہیں کرتی۔
اسی طرح شمالی افریقہ میں آزادی کی تحریکوں نے بھی یہ ثابت کیا کہ عسکری قوت ہمیشہ سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں بنتی۔ الجزائر کی جنگ میں ایک طرف یورپ کی بڑی طاقت فرانس تھی اور دوسری طرف آزادی کے خواہاں الجزائری عوام۔ طویل اور خونریز جدوجہد کے بعد 1962 میں الجزائر آزاد ہوا۔ فرانس کو بالآخر پسپائی اختیار کرنا پڑی، مگر الجزائر کے قبرستان آج بھی اس جدوجہد کی قیمت یاد دلاتے ہیں۔ طاقت نے وقتی کنٹرول تو قائم رکھا تھا، مگر عوامی خواہش کو دبایا نہ جا سکا۔
افغانستان کی سرزمین بھی اسی تاریخ کی ایک اور دردناک مثال ہے۔ سویت ۔ افغان جنگ جو۔دراصل سویت ۔امریکہ جنگ تھی کے دوران عسکری قوت کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، مگر ایک دہائی بعد سویت یونین کو افغانستان سے انخلاء کرنا پڑا۔ اس کے بعد بھی ملک خانہ جنگی کی لپیٹ میں رہا۔ پھر 2001 میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی اپنے ہی ماضی قریب کے افغان اتحادیوں سے جنگ شروع ہوئی، جو بیس برس تک جاری رہی۔ جدید ترین اسلحے اور عالمی اتحاد کے باوجود افغانستان میں پائیدار امن قائم نہ ہو سکا، اور بالآخر غیر ملکی افواج کو واپسی اختیار کرنا پڑی۔ یہ سب اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جنگیں زمین جیت سکتی ہیں، دل نہیں۔
جنگ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ ریاستوں کو عسکری سوچ کا اسیر بنا دیتی ہے۔ بجٹ کا بڑا حصہ تعلیم، صحت اور ترقی کے بجائے اسلحے پر خرچ ہونے لگتا ہے۔ عوامی بہبود پس منظر میں چلی جاتی ہے اور معاشرہ خوف اور عدم تحفظ کے ماحول میں جینے لگتا ہے۔ ایک نسل کے زخم اگلی نسل کی نفسیات میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ نفرت کا بیج بویا جائے تو امن کی فصل نہیں اگتی۔
یہ درست ہے کہ بعض اوقات ریاستیں اپنے دفاع کے لیے جنگ پر مجبور ہو جاتی ہیں، مگر دفاعی ضرورت اور جارحانہ حکمتِ عملی میں فرق واضح ہونا چاہیے۔ اصل دانشمندی یہ ہے کہ تنازعات کو اس نہج تک پہنچنے ہی نہ دیا جائے جہاں بندوق اٹھانا پڑے۔ مضبوط سفارت کاری، انصاف پر مبنی پالیسی ہی پائیدار امن کی بنیاد بنتی ہے۔
آج کی دنیا باہمی انحصار کی دنیا ہے۔ ایک خطے کی بدامنی پوری دنیا کو متاثر کرتی ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی میں کسی بڑی جنگ کا تصور ہی انسانیت کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے۔ ایسے میں جنگ کا راستہ اختیار کرنا دراصل اجتماعی نقصان کو دعوت دینا ہے۔
لہٰذا قیادتوں کو وقتی سیاسی فائدے کے بجائے طویل المدتی امن کو ترجیح دینا ہوگی۔ میڈیا اور دانشوروں کا بھی فرض ہے کہ وہ جنگی جنون کے بجائے مکالمے اور برداشت کی فضا کو فروغ دیں۔ اصل طاقت تباہی میں نہیں، تعمیر میں ہے؛ اصل کامیابی دشمن کو زیر کرنے میں نہیں، بلکہ تنازع کو منصفانہ طور پر حل کرنے میں ہے۔
تاریخ کا سبق واضح ہے کہ جنگیں سرحدیں بدل سکتی ہیں، مگر دل نہیں جیت سکتیں۔ مسائل کا مستقل حل صرف انصاف، مکالمے اور باہمی احترام سے نکلتا ہے۔ اگر بڑی طاقتیں اور عالمی قیادت واقعی انسانیت کے محفوظ اور روشن مستقبل کی خواہاں ہیں تو انہیں بارود کی بو سے نکل کر مکالمے کی مہک کو اپنانا ہوگا، کیونکہ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ بندوقیں خوف پیدا کرتی ہیں، جبکہ بات چیت اعتماد اور پائیدار امن کی بنیاد رکھتی ہے۔
٭٭٭
Share this content:


