ایرانی حملے امریکہ اور خلیجی اتحادیوں کےاستحکام کے لیے خطرہ قرار،مزید طویل جنگ کے لیے تیار

امریکہ اور اس کے چھ خلیجی اتحادی ممالک کویت، سعودی عرب، بحرین، قطر، اردن، متحدہ عرب امارات نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کے حالیہ حملے خطے میں ’خطرناک اضافہ‘ ہیں جو مشرقِ وسطیٰ کے استحکام کو براہِ راست متاثر کر رہے ہیں۔

بیان میں شہریوں اور غیر جنگجو ممالک کو نشانہ بنانے کو غیر ذمہ دارانہ رویہ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ یہ اقدامات علاقائی امن کو کمزور کرتے ہیں۔ یہ بیان کویت کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا۔

اتحادی ممالک نے اپنے دفاع کے حق کی تجدید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے حملے بحرین، عراق (بشمول کردستان ریجن)، اردن، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات تک پھیل چکے ہیں، جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے ایک سخت بیان میں کہا ہے کہ ایران امریکہ کے برعکس طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔

ان کے مطابق ایران نے گزشتہ 300 سال میں کوئی جنگ شروع نہیں کی۔ ایرانی افواج نے ہمیشہ دفاع میں کارروائی کی ہے۔ ایران اپنی 6000 سال پرانی تہذیب کے دفاع کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہے۔ دشمن کو ان کے غلط حساب کتاب پر پچھتاوا دلایا جائے گا۔

امریکی وزیرِ دفاع نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران کے خلاف کارروائیاں لامتناہی جنگ کا آغاز نہیں بلکہ ایران کے میزائل، بحریہ اور سکیورٹی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے لیے ہیں۔

ایک طرف امریکہ اور اس کے خلیجی اتحادی ایران کے حملوں کو علاقائی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

دوسری طرف ایران واضح طور پر اعلان کر رہا ہے کہ وہ طویل جنگ کے لیے تیار ہے اور دفاع میں ہر حد تک جائے گا۔

دونوں بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھنے کے امکانات زیادہ ہیں۔

Share this content: