پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ایک نوجوان اور بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی ایک نوجوان لڑکی کو ایک ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔
ویڈیو میں ایک ایسا شخص، جو کیمرے کے سامنے نظر نہیں آتا، نوجوان جوڑے سے سوالات کر رہا ہے۔
ویڈیو کے مطابق وہ لڑکے سے اس کا نام، والد کا نام اور رہائشی علاقے کے بارے میں پوچھتا ہے، جس کے جواب میں نوجوان اپنا نام ذیشان میر، والد لال دین، سکنہ رینکڑی بتاتا ہے۔
اسی طرح لڑکی سے بھی اس کا نام، والد کا نام اور رہائشی علاقے کے بارے میں سوالات کیے جاتے ہیں، جس کے جواب میں وہ اپنا نام ارم، والد مجید، سکنہ تلہ واڑی بتاتی ہے۔
بظاہر یہ ویڈیو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بنائی گئی معلوم ہوتی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ ویڈیو کس نے ریکارڈ کی اور اسے سوشل میڈیا پر کس نے شیئر کیا۔
رینکڑی گاؤں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع حویلی میں لائن آف کنٹرول کے قریب واقع ہے، جبکہ تلہ واڑی بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع بارہ مولہ کا ایک سرحدی گاؤں ہے جو لائن آف کنٹرول کے نزدیک واقع ہے۔ دونوں دیہات ایک دوسرے کے بالمقابل واقع ہیں۔
ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ بعض صارفین کا خیال ہے کہ نوجوان لڑکی سے ملاقات کی غرض سے لائن آف کنٹرول عبور کر کے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر پہنچا۔ تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر تاحال کوئی حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ضلع حویلی کے ڈپٹی کمشنر، طارق محمود نے واقعے کے بارے میں کہا:
"اس طرح کا واقعہ سوشل میڈیا پر موجود ہے۔ پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔ ابتدائی اطلاعات جو ملی ہیں، ان کے مطابق اس نوعیت کا واقعہ پیش آیا ہے۔”
واضح رہے کہ نومبر 2024 میں بھی ایک ایسا ہی واقعہ سامنے آیا تھا جب بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے کرنی سے فاطمہ نامی ایک لڑکی لائن آف کنٹرول عبور کر کے ضلع حویلی کے ایک گاؤں میں پہنچی تھی۔
بعد ازاں پولیس نے کہا تھا کہ لڑکی نے عمران نامی نوجوان سے شادی کی غرض سے لائن آف کنٹرول عبور کی تھی۔
حالیہ ویڈیو کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ حقائق سامنے آنے کے بعد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
Share this content:


