کاشگل نیوز خصوصی رپورٹ
پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کو قدرت نے بے شمار چشموں، ندی نالوں اور صاف پانی کے ذخائر سے نوازا ہے، جو نہ صرف پینے اور روزمرہ ضروریات کے لیے اہم ہیں بلکہ ان میں نایاب اقسام کی مچھلیوں کی افزائش بھی ہوتی ہے۔ تاہم ماحولیاتی تبدیلیوں، دریاؤں میں کچرا پھینکے جانے اور پانی کے درجہ حرارت میں بگاڑ کے باعث کشمیر میں یہ مچھلیاں تیزی سے نایاب ہوتی جا رہی ہیں، جن میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی نسل ٹراؤٹ مچھلی ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی اور آلودگی سے ٹراؤٹ کی بقا خطرے میں
خطے میں بڑھتی ہوئی آلودگی، دریاؤں میں کچرے کا اضافہ اور پانی کے درجہ حرارت میں غیر معمولی تبدیلیاں ٹراؤٹ مچھلی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔ ٹھنڈے اور صاف پانی کی یہ مچھلی معمولی درجہ حرارت کے بگاڑ سے بھی متاثر ہوتی ہے، جس کے باعث اس کی افزائش کا قدرتی نظام متاثر ہو رہا ہے۔
پٹیہکہ ہیچری قدرتی ٹراؤٹ افزائش کا اہم مرکز
ضلع مظفرآباد کا خوبصورت علاقہ پٹیہکہ قدرتی چشموں اور دریائے نیلم کی وجہ سے ٹراؤٹ افزائش کے لیے مثالی سمجھا جاتا ہے۔ یہاں قائم مچھلی اور ہیچری فارم میں نہ صرف ٹراؤٹ کی افزائش ہوتی ہے بلکہ اس کے نایاب اور اعلیٰ معیار کے انڈے بھی تیار کیے جاتے ہیں۔
ٹراؤٹ بریڈنگ کا حساس عمل اور درجہ حرارت کی اہمیت
فارم منیجر کے مطابق نومبر سے مارچ کے آخر تک ٹراؤٹ کی بریڈنگ کا موسم ہوتا ہے، جس دوران انڈے دینے والی مچھلیوں کی خصوصی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔
ٹراؤٹ مچھلی تین سے پانچ ماہ تک انڈوں کو انکیوبیٹ کرتی ہے۔ تقریباً 20 دن بعد انڈوں میں سیاہ دھبے نمودار ہوتے ہیں جو مچھلی کی آنکھ کی نشاندہی کرتے ہیں، اسی لیے انہیں آئیڈ ایگ کہا جاتا ہے۔
اس مرحلے کے بعد بچہ انڈے سے باہر آتا ہے اور جب اس کا وزن تقریباً 10 گرام تک پہنچ جاتا ہے تو اسے ریس وے میں چھوڑ دیا جاتا ہے، جہاں چند ماہ میں اس کا وزن 200 سے 250 گرام تک ہو جاتا ہے۔ افزائش کا پورا عمل پانی کے درجہ حرارت پر منحصر ہے، جو 10 سے 15 ڈگری کے درمیان ہونا چاہیے۔
بڑھتی ہوئی طلب، لاکھوں انڈے اور ہیچری کی توسیع کی ضرورت
فارم منیجر نے بتایا کہ پٹیہکہ ہیچری میں ہر سال لاکھوں ٹراؤٹ انڈے تیار کیے جاتے ہیں اور نجی سیکٹر میں بڑھتی ہوئی طلب کے باعث اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق خطے کے سرکاری اور نجی فارمز کو مچھلیوں کا بیج بھی فراہم کیا جا رہا ہے، تاہم بڑھتی ہوئی مانگ کے پیشِ نظر ہیچری کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
ورلڈ وائلڈ لائف ڈےقدرتی ٹراؤٹ کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات ضروری
انہوں نے کہا کہ ورلڈ وائلڈ لائف ڈے کے موقع پر حکومت اور محکمہ وائلڈ لائف و فشریز کو چاہیے کہ ٹراؤٹ کلچر کو فروغ دینے کے لیے اقدامات تیز کریں اور دریاؤں و ندی نالوں میں پائی جانے والی قدرتی ٹراؤٹ کو تحفظ فراہم کریں، تاکہ نہ صرف اس نایاب نسل کو بچایا جا سکے بلکہ بے روزگار نوجوانوں کو اس شعبے کی طرف راغب کر کے معاشی مواقع بھی پیدا کیے جا سکیں۔
٭٭٭
Share this content:


