عورت دوہرے جبر کا شکار: عالمی یومِ خواتین پر پاکستانی کشمیر میں فکری نشست کا انعقاد

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے علاقے باغ میں جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام محنت کش خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ایک فکری نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا عنوان تھا "کمتر ہو نہ حاوی ہو، عورت کا حق مساوی ہو”۔

یہ نشست ضلعی دفتر باغ میں منعقد ہوئی جس میں پارٹی کے متحرک کارکنان اور مختلف سماجی و سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔

نشست میں پونچھ برانچ کے صدر شان جاوید، عوامی ایکشن کمیٹی باغ کے سینئر رہنما عثمان کاشر، عادل ارشاد، ممتاز ڈوگرہ اور خواتین کمیٹی کی رکن سلمہ حمید نے خصوصی شرکت کی اور خواتین کے حقوق اور سماجی مسائل پر اظہار خیال کیا۔

مقررین نے اپنے خطاب میں بلوچ خواتین کے خلاف مبینہ ریاستی جبر، انہیں پابند سلاسل کرنے اور ان پر قائم کیے جانے والے جعلی مقدمات کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ریاستی دہشت گردی قرار دیا۔

مقررین کا کہنا تھا کہ پرامن سیاسی جدوجہد کرنے والی بلوچ خواتین کو جبری طور پر لاپتہ کرنا بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اجلاس میں پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں جاری لیڈی ہیلتھ ورکرز کے احتجاج کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ان کے مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا کہ صحت کے شعبے سے وابستہ خواتین کو درپیش مسائل کا فوری حل نکالا جانا چاہیے۔

فکری نشست میں عورت کے سماجی رتبے کو تاریخی ادوار کے تناظر میں زیر بحث لایا گیا جبکہ محنت کش خواتین کے عالمی دن کی تاریخ، اہمیت اور افادیت پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔

مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ عورت کو سماج میں دوہرے جبر کا سامنا ہے، ایک طرف صنفی بنیادوں پر استحصال جبکہ دوسری جانب طبقاتی نظام کے باعث معاشی اور سماجی غلامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ ہر قسم کے جبر و استحصال کے خاتمے کے لیے غیر طبقاتی سماج کا قیام ناگزیر ہے اور حقیقی نجات اسی صورت ممکن ہے جب سرمایہ دارانہ نظام کے استحصالی ڈھانچے کا خاتمہ کر کے مساوات پر مبنی معاشرہ قائم کیا جائے۔

Share this content: