اسلام آباد/کاشگل نیوز
پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اچانک اضافہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی جنگ کے ایک ہفتے کے اندر کیا گیا، جس کے بعد پٹرولیم سیکٹر میں اربوں روپے کے اضافی ریونیو کا نیا منظرنامہ سامنے آ گیا ہے۔
پٹرولیم سیکٹر سے وابستہ سرکاری و نجی ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت اس وقت پٹرول اور ڈیزل پر فی لیٹر تقریباً 105 روپے مختلف لیویز اور ٹیکسز کی مد میں وصول کر رہی ہے۔ اس شرح کے مطابق ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت حکومت کے لیے روزانہ اور ماہانہ بھاری مالی آمدن کا ذریعہ بن چکی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی مجموعی اوسط کھپت تقریباً 7 سے 8 کروڑ لیٹر روزانہ ہے۔ اگر فی لیٹر 105 روپے کے حساب سے حکومتی ٹیکس اور لیوی کو شمار کیا جائے تو وفاقی حکومت کو روزانہ تقریباً 735 سے 840 کروڑ روپے صرف ٹیکس اور لیوی کی مد میں حاصل ہوتے ہیں۔ اسی تناسب سے دیکھا جائے تو حکومتی آمدن ہفتہ وار تقریباً 5,145 سے 5,880 کروڑ روپے جبکہ ماہانہ پرافٹ تقریباً 22,050 سے 25,200 کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پٹرولیم قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد حکومت کی ٹیکس وصولی میں بھی عملی طور پر نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے کیونکہ مہنگائی کے اثرات کے ساتھ ساتھ دیگر بالواسطہ ٹیکسز اور معاشی سرگرمیوں پر بھی اثر پڑتا ہے۔ ادھر پٹرولیم سیکٹر کے ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 11,800 پٹرول پمپ کام کر رہے ہیں اور ہر پمپ پر اوسطاً 40 سے 60 ہزار لیٹر فیول ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ اس حساب سے ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کا اسٹاک تقریباً 50 سے 60 کروڑ لیٹر بنتا ہے۔ قیمتوں میں اچانک اضافے کے باعث پرانے اسٹاک پر آئل کمپنیوں اور پمپ مالکان کو تقریباً 30 سے 32 ارب روپے تک کا فوری منافع حاصل ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اس اضافے کا سب سے بڑا اثر عام شہری پر پڑتا ہے۔ ایک عام خاندان جو ماہانہ تقریباً 100 لیٹر پٹرول استعمال کرتا ہے اسے اب تقریباً 5,500 روپے اضافی ادا کرنا ہوں گے۔ اس اضافے کے اثرات ٹرانسپورٹ، زرعی پیداوار، صنعتی لاگت اور روزمرہ خدمات کے شعبوں تک منتقل ہو کر مہنگائی کی نئی لہر کو جنم دے سکتے ہیں۔ دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں حالیہ ہفتوں کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں صرف 5 سے 7 فیصد اضافہ رپورٹ ہوا ہے جبکہ پاکستان میں قیمتوں میں اضافہ تقریباً 20 فیصد تک جا پہنچا ہے۔
پڑوسی ممالک جیسے بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر ایشیائی ریاستوں نے عالمی منڈی میں محدود اضافے کے باوجود قیمتوں کو نسبتاً مستحکم رکھا ہے تاکہ عوام پر فوری معاشی دباؤ نہ پڑے۔ معاشی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے ایک اہم سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا پٹرولیم سیکٹر سے حاصل ہونے والی ہزاروں کروڑ روپے کی اضافی آمدن عوامی فلاح پر خرچ ہوگی یا یہ ریونیو صرف حکومتی مالی خسارے کو پورا کرنے کا ذریعہ بن کر رہ جائے گا۔
تحقیقی جائزے کے مطابق پاکستان کا پٹرولیم سیکٹر اس وقت ایسا معاشی میدان بن چکا ہے جہاں عوامی مفاد، حکومتی ریونیو اور نجی منافع تینوں کے درمیان ایک واضح اور خطرناک تضاد پیدا ہو چکا ہے اور اس کے اثرات براہِ راست ہر شہری کی روزمرہ زندگی پر پڑ رہے ہیں۔
Share this content:


